خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 301

خطبات محمود 301 $ 1949 پس میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے رہا کرو۔رسول کریمی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے حَاسِبُوا قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُو او یعنی پیشتر اس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے تم اپنا محاسبہ خود کرو۔ہوشیار کلرک معائنہ سے پہلے دو چار راتیں لگا کر اپنا حساب ٹھیک کر لیتا ہے ہے۔اسی طرح تمہیں بھی اپنے نفس کا محاسبہ کر کے یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا تمہاری روحانیت کے نتیجہ میں کوئی چیز پیدا ہوئی ہے؟ اگر تمہاری روحانیت کے نتیجہ میں کوئی چیز پیدا ہو رہی ہے تو سمجھ لو تمہارا ایمان درست ہے اور اگر نہیں تو تمہارا ایمان ورثہ کا ایمان ہے اور ورثہ کا ایمان فائدہ نہیں دیتا۔نجات وہی شخص پاتا ہے جو بقول حضرت مسیح علیہ السلام اپنی صلیب خود اُٹھاتا ہے۔نجات وہی شخص پاتا ہے جو اپنی نہریں خود کھودتا ہے۔نجات وہی شخص پاتا ہے جو اپنے درخت خود لگاتا ہے۔جو شخص دوسرے کے باغ میں داخل ہوتا ہے اُسے چوروں کی طرح باہر نکال دیا جاتا ہے۔اسی طرح وہ شخص جو ورثہ کے طور پر جنت میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا اُسے فرشتے پرے دھکیل دیں گے کیونکہ وہ چور ہے اور چور کو وہاں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا“۔1 : مرقس باب 8 آیت 34 (الفضل 14 دسمبر 1960 ء) 2 : بخاری کتاب التفسير تفسير سورة الشعراء باب وَانْذِرُ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ 3: وَمِنْ كُلِّ شَيْ خَلَقْنَازَ وَجَيْنِ (الذاريات : 50) 4 : الكوثر: 4 5 : السيرة الحلبية جلد 3 صفحہ 107،106 مطبوعہ مصر 1935ء 6 : مسلم كتاب الإيمان باب كونُ الْإِسْلَامِ يهدم مَا قَبْلَهُ (الخ) 7 : بخاری کتاب المغازى باب غَزْوَة مرُّونَةً 8 : اسدالغابة جلد 2 صفحہ 95 مطبوعہ ریاض 1285ھ 9 : تفسیر روح البیان زیر آیت اِقْرَاْ كِتَابَكَ كَفَی بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ - جلد 5 کے مطابق یہ حضرت عمرؓ کا قول ہے