خطبات محمود (جلد 30) — Page 279
$1949 279 خطبات محمود حاصل ہوئی۔احادیث میں آتا ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو بار بار آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلتے تھے کہ اِلَى الرَّفِيقِ الأَعْلَى إِلَى الرَّفِيقِ الأعلى - 3 چلوسب سے بڑے دوست کے پاس چلیں۔چلوسب سے بڑے دوست کے پاس چلیں۔یہی حال صحابہ کا تھا۔وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں مرنے پر اتنے خوش ہوتے تھے اور اس قدر لذت اور سرور محسوس کرتے تھے کہ ان کے واقعات پڑھ کر حیرت آتی ہے۔تاریخوں میں آتا ہے ایک جنگ کے موقع پر ایک عیسائی سردار نے کئی بڑے بڑے مسلمان سرداروں کو مار ڈالا۔اُس زمانہ میں قاعدہ تھا کہ عام حملہ سے پہلے دونوں لشکروں میں سے ایک ایک آدمی نکلتا اور وہ آپس میں مقابلہ کرتے۔وہ عیسائی چونکہ ایک بڑا ماہر جرنیل تھا اس لیے انفرادی مقابلہ میں اس نے یکے بعد دیگرے کئی مسلمان مارڈالے۔آخر حضرت ابو عبیدہ نے جو اسلامی فوج کے کمانڈر انچیف تھے حضرت ضرار کو حکم دیا کہ وہ اس عیسائی کے مقابلہ کے لیے جائیں۔جب وہ مقابلہ کے لیے نکلے اور اس عیسائی سردار کے سامنے کھڑے ہوئے تو بجائے اس کے کہ اس کا مقابلہ کرتے بے تحاشا میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے اور دوڑتے ہوئے اپنے خیمہ کی طرف چلے گئے۔اس پر عیسائیوں میں خوشی کی ایک اہر دوڑ گئی اور انہوں نے بڑے زور سے نعرے بلند کیے اور مسلمان جو پہلے ہی افسردہ خاطر ہورہے تھے ان کی سخت دل شکنی ہوئی۔حضرت ابو عبیدہ نے جب یہ نظارہ دیکھا تو انہوں نے ایک شخص کو جو حضرت ضرار کے دوست تھے بلایا اور کہا تم ضرار کے پاس جاؤ اور اس سے پوچھو کہ تم نے یہ کیا حرکت کی ہے؟ وہ خیمہ کے قریب پہنچے تو اتنے میں حضرت ضرار خیمہ میں سے باہر نکل رہے تھے۔انہوں نے جاتے ہی کہا ضرار! آج تم نے کیا کیا ؟ سارے مسلمانوں کے سر آج شرمندگی اور ندامت کے مارے جھکے ہوئے ہیں اور وہ کفار کے سامنے اپنی گردنیں اونچی کرنے کے قابل نہیں رہے۔یہ کتنی بڑی ذلت کی لی بات ہے کہ تم عیسائی سردار کے سامنے ہوتے ہی میدان چھوڑ کر خیمہ کی طرف بھاگ آئے اور کفار کو ای خوش ہونے کا موقع بہم پہنچا دیا۔انہوں نے کہا میں نے جو کچھ کیا ہے ٹھیک کیا ہے۔تم جانتے ہو کہ میں ہے ہمیشہ زرہ کے بغیر لڑا کرتا ہوں مگر آج اتفاقا صبح سے میں نے زرہ پہنی ہوئی تھی۔جب ابو عبیدہ نے مجھے حکم دیا کہ میں اس عیسائی جرنیل کے مقابلہ کے لیے نکلوں تو میں بغیر خیال کیسے زرہ پہنے اس کے سامنے چلا گیا مگر جونہی میں سامنے کھڑا ہوا مجھے یاد آیا کہ میں نے زرہ پہنی ہوئی ہے۔اس پر میرے نفس نے