خطبات محمود (جلد 30) — Page 273
$1949 273 خطبات محمود تھیں۔وہ ان سے ملنے گئے تو اس نے کہا بھائی! مجھے تو ذکر الہی میں بڑا لطف آتا ہے اس لیے میں نے نوافل کم کر دیئے ہیں۔انہوں نے کہا یہ بات ٹھیک نہیں۔نوافل بھی ذکر الہی ہیں لیکن ان کی ایک معین صورت ہے اور ان کا ترک کرنا میں پسند نہیں کرتا۔ایسا نہ ہو کہ کوئی خرابی پیدا ہو جائے۔دوسرے جمعہ وہ پھر بہن کو ملنے گئے تو اس نے کہا بھائی ! میں نے نوافل چھوڑ دیئے ہیں اور وہ وقت بھی ذکر الہی میں ہی صرف کرنا شروع کر دیا ہے کیونکہ جو لطف ذکر الہی میں ہے وہ نوافل میں نہیں۔بھائی نے کہا اب کے نوافل ترک کر دیئے ہیں تو دوسرے وقت سنتوں پر بھی ہاتھ صاف ہوگا۔اس نے کہا نہیں نہیں ایسا نہیں ہوگا۔تیسرے جمعہ پھر گئے تو بہن نے کہا جو بات آپ نے کہی تھی وہ ٹھیک نکلی۔مجھے اب سنتوں میں بھی وہ لطف نہیں آتا جو ذکر الہی میں آتا ہے۔بھائی نے کہا دیکھنا اب فرضوں پر بھی ہاتھ صاف ہوگا۔چنانچہ اگلے جمعہ جب ملنے گئے تو اس نے کہا میرا دل اب فرضوں میں بھی نہیں لگتا۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی شیطانی حملہ ہے۔انہوں نے قرآن کریم کی ایک آیت اسے بتائی اور کہا کہ اس آیت کو مدنظر رکھ کر خدا تعالیٰ سے دعا مانگو۔اس نے دعا مانگی تو خدا تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ وہ حالت دور ہو گئی۔دوسرے جمعہ جب بھائی ملنے گئے تو بہن نے کہا میں نے کشف میں دیکھا ہے کہ میں نماز پڑھ رہی ہوں۔جب میں نے سلام پھیرا تو پاس ہی ایک بندر نظر آیا۔اس بندر نے کہا میں نے تو تجھے نماز چھڑوا کے رہنا تھا مگر تمہارا بھائی بہت چالاک نکلا اور اس نے میرا داؤ چلنے نہ دیا۔بھائی نے کہا وہ بندر شیطان تھا جو تمہیں ورغلار ہا تھا۔غرض جو شخص اپنے اعمال کی نگرانی نہیں کرتا اُس کی یہی حالت ہوتی ہے۔وہ گرتے ہوئے کہیں کا کہیں جا پہنچتا ہے لیکن زندہ قوم کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اس کے اعمال کی نگرانی کی جائے۔مثلاً اگر حرام خوری کی مرض کسی جماعت میں پائی جاتی ہے اور اس کی اصلاح کی طرف کوئی توجہ نہیں کی جاتی تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کچھ مدت کے بعد دیانت اُٹھ جائے گی۔یا اگر کسی جماعت میں ظلم زیادہ ہوتا تھی ہو تو دیکھنے والے کہیں گے کہ ظلم میں کیا رکھا ہے۔اگر یہ چیز بُری ہوتی تو فلاں عہد یدار ایسا کیوں کرتا۔غرض آہستہ آہستہ ایسے وساوس پیدا ہو جائیں گے جو جماعت کی دینی حالت کو گرادیں گے اور پھر اس کی اصلاح کے لیے لمبی اور متواتر جد و جہد کی ضرورت ہوگی۔وقت زیادہ گزر رہا ہے۔ہمیں اس بات کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔لوگ زمانہ نبوی سے جتنا دور ہوتے جارہے ہیں انوار الہی کی بارشوں میں اتنا