خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 226

* 1949 226 خطبات محمود سمجھا۔ان میں یہ جس ہی نہیں تھی کہ الہبی جماعتیں کس طرح تمام دنیا پر چھا جایا کرتی ہیں۔اسی بات کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے جماعت کو ایک معمولی سوسائٹی یا انجمن سے زیادہ درجہ نہ دیا اور سمجھ لیا کہ ہم نے جو کچھ حاصل کرنا تھا وہ کر لیا ہے۔مثلاً ریڈ کر اس سوسائٹی ہے وہ تمام دنیا پر غالب تو نہیں ہے لیکن تاہم اس کا کام تمام دنیا میں پھیلا ہوا ہے، لوگ ان کی تعریفیں کرتے ہیں اور یہی ان کا مطمح نظر تھا اس کو حاصل کرنے میں وہ لوگ کامیاب ہو گئے اور سمجھ لیا کہ ہم نے اپنے مقصد کو پا لیا۔یا مثلاً سالویشن آرمی (Salvation Army) ہے۔عیسائیوں کا یہ مقصد نہیں تھا کہ دنیا کا اکثر حصہ اس میں داخل ہو جائے یا اس کے ذریعہ وہ دنیا کے اصول بدل ڈالیں۔کچھ لوگ اس میں داخل ہو گئے اور انہوں نے یہ خیال کر لیا کہ ہم نے اپنے مقصد کو حاصل کر لیا ہے۔یہی خیال تھا جو ہماری جماعت کے بعض لوگوں میں پایا جاتا تھا۔وہ عنصر تو نکل گیا لیکن واقعہ یہ ہے کہ ابھی تک جماعت کے بعض لوگوں نے جو رویہ اختیار کیا ہوا ہے وہ درست نہیں۔اور جس طریق پر جماعت اب چل رہی ہے اس سے ہم باقی دنیا کو اپنے ساتھ مل جانے پر مجبور نہیں کر سکتے اور اُن پر ایسا اثر نہیں ڈالی سکتے کہ وہ بھی ہمارے پیچھے چلیں۔یہ سلسلہ سچا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ایک نہ ایک وقت خدا تعالیٰ اس پر ایسا لے آئے گا کہ تمام دنیا کی توجہ اس طرف پھر جائے گی اور وہ اس میں گروہ در گروہ داخل ہوں گے اور اس کے آثار نظر بھی آرہے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ ہم نے اس سلسلہ میں کیا کچھ۔کیا ؟ ہم نے اس اہم مقصد کی طرف وہ توجہ نہیں دی جو ہمیں دینی چاہیے تھی۔افغانستان میں ہمارے کچھ آدمی شہید کر دیئے گئے اُس کے بعد ہم نے اُسے اسی طرح کی چھوڑ دیا گویا وہ علاقہ دنیا سے مٹ گیا ہے۔حالانکہ الہی جماعتوں کا یہ طریق ہوتا ہے کہ اگر دشمن ان کے افراد کو مارنا چاہتا ہے تو وہ گھبراتے نہیں۔وہ اپنے آپ کو موت کے لیے پیش کرتے چلے جاتے ہی اور مرتے چلے جاتے ہیں۔افغانستان میں اگر کچھ لوگ احمدی ہوئے تو وہ اتفاقی طور پر ہوئے ہیں ورنہ ہم نے اُس طرف سے اپنی توجہ بالکل پھیر لی ہے۔اسی طرح بعض اور ملکوں میں بھی ہو رہا تھا ہے۔اگر ہم ایک مامور کی جماعت ہیں جیسا کہ ہمارا دعوی ہے تو یقیناً ایک وقت ایسا آئے گا جب دنیا ہمیں مٹا دینے کے درپے ہو گی۔مگر جب ایسا وقت آئے گا تو کیا وہ لوگ جو اپنی آمد کا 1/10 1/9 یا 1/8 بھی چندہ کے طور پر نہیں دیتے وہ اُس وقت احمدیت کی خاطر اپنی سینکڑوں روپے کی