خطبات محمود (جلد 30) — Page 218
خطبات محمود 218 * 1949 صلوۃ کے معنے نماز کے ہیں اور نماز ایسی چیز ہے جس کا تعلق جسم، دماغ اور دل کے ساتھ ہوتا ہے۔پس’صلوۃ اس قربانی کو کہتے ہیں جو جسم اور دل و دماغ سے تعلق رکھتی ہو۔اور نَسِيكَة جسم سے باہر کی قربانی کو کہتے ہیں جو انسان اپنے اموال کی صورت میں پیش کرتا ہو۔”صلوۃ میں دل و دماغ اور جسم کے ساتھ تعلق رکھنے والی قربانی کو مد نظر رکھا گیا ہے اور نَسِيكة “ میں اموال کی قربانیوں کو مد نظر رکھا گیا ہے خواہ وہ کسی مقصد کے ماتحت ہوں یا پلا مقصد کی گئی ہوں۔نَسِيكَة میں یہ عجیب بات ہے کہ بعض قربانیاں ایک خاص مقصد کے ماتحت کی جاتی ہیں اور بعض بلا مقصد کی جاتی ہیں۔مثلاً حج پر لوگ جاتے ہیں اور وہاں قربانیاں کرتے ہیں۔حج پر جانے والوں کی تعداد تین تین، چار چار لاکھ تک جا پہنچتی ہے اور ہر ایک شخص یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ قربانی کرے۔اگر اس موقع پر ایک لاکھ بکرے کی قربانی بھی کی جائے تو وہ لوگ انہیں کھا نہیں سکتے۔ایک ایک بکرے کو کھانے کے لیے پچاس پچاس آدمی چاہیں۔اس طرح ایک لاکھ بکروں سے حاجیوں کے لیے پانچ ہزار بکرا کافی ہو سکتا ہے یا زیادہ سے زیادہ دس پندرہ ہزار بکرے ان کے اپنے استعمال میں آجائیں گے باقی سب گوشت ضائع چلا جاتا ہے۔اسی لیے وہاں ایک کھیل سی کھیلی جاتی ہے اور وہ ہے یہ کہ بکرا ذبح کرنے کے فورا بعد لوگ اُسے اُٹھا کر لے جاتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہاں بکرے کی کوئی قیمت نہیں۔میں جب حج پر گیا تو میں نے خیال کیا کہ حج کا موقع بار بار کہاں ملتا ہے اس لیے میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خلیفہ امسیح الاول اور دیگر عزیزوں اور جماعت کی طرف سے سات آٹھ قربانیاں دیں۔جب ہم بکرے ذبح کرواتے تھے تو ذبح کرنے والوں کی چُھری ابھی ذبیحہ کے جسم سے باہر نہیں نکلتی تھی کہ عرب آتے ، بکرے کو ٹانگوں سے پکڑتے اور گھسیٹ کر لے جاتے ، اور یہ چیز صرف ہمارے ہی ساتھ نہیں تھی دوسرے سب لوگوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو رہا تھا۔ہر طرف قہقہے لگ رہے تھے جن کا مطلب یہ تھا کہ یہاں بکروں اور دُنبوں کو پوچھتا ہی کون ہے۔قصاب نے کہا آپ ایک بکرے کی چھاتی پر بیٹھ جائیے تا کہ آپ کے کھانے کے لیے ایک آدھ بکر ابچ جائے۔لیکن سوال یہ تھا کہ ہمیں بھی تو گوشت کی ضرورت نہیں تھی۔ہمارے وہاں کونسے واقف اور عزیز تھے جنہیں ہم نے گوشت دینا تھا۔