خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 400

* 1949 400 خطبات محمود قواعد ہیں جن کا پہلے اعلان کیا جا چکا ہے۔اور جو فوت ہو گئے ہیں اُن کے چندے جاری سمجھے جائیں گے کیونکہ موت اُن کے اختیار میں نہ تھی سوائے اُن کے جن کے عزیزوں نے اُن کو ثواب پہنچانے کے لیے ان کے چندے کو جاری رکھا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ان کے لیے اس کا ثواب لکھتا رہے گا۔دفتر دوم کے لیے نوجوانوں کو خصوصاً خدام الاحمدیہ کو چاہیے کہ وہ جہاں جہاں بھی ہوں پورے زور کے ساتھ اس میں حصہ لیں اور دوسروں کو اس میں حصہ لینے کی ترغیب دلائیں۔انہیں ہے چاہیے کہ وہ سارے شہر اور علاقہ میں پھریں، خود وعدے لکھوائیں اور جو لوگ اس میں شامل نہیں ہیں یا ای جو لوگ مصنوعی طور پر اس میں شامل تھے یعنی اُن کے برسر روزگار نہ ہونے کی وجہ سے ان کے والدین کی نے رسمی طور پر ان کی طرف سے حصہ لیا ہوا تھا یا جن لوگوں نے پورے طور پر اس میں حصہ نہیں لیا تھا اُن کے سے وعدے لکھوائیں اور زیادہ سے زیادہ لکھوائیں اور پھر ان کی وصولی کی طرف بھی توجہ دیں۔میں نے صدر مجلس خدام الاحمدیہ کا بار اسی لیے اُٹھایا ہے تا جماعت کے نوجوانوں کو دین کی طرف توجہ دلاؤں۔سو میں سب سے پہلے اُن کے سپرد یہ کام کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ وہ اپنے ایمان کا ثبوت دیں گے اور آگے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے اور کوئی نوجوان ایسا نہیں رہے گا جو دفتر دوم میں شامل نہ ہو۔اور کوشش کریں کہ ساری کی ساری رقم وصول ہو جائے۔پہلی غلطیاں جو سر زد ہوئی ہیں اُن کا بھی ازالہ کریں۔اگر گزشتہ سالوں کے بقائے وصول ہو جائیں تو دواڑھائی لاکھ روپیہ آ جاتا ہے۔ابھی بہت سے کام ہیں جو ہم نے کرنے ہیں۔تحریک جدید کا بہت سا قرض باقی ہے جو ادا کرنا ہے اور ابھی بعض جگہوں پر جہاں مشن قائم ہو چکے ہیں مسجد میں تیار کرنی ہیں اور یہ کام روپیہ چاہتے ہیں۔لیکن پہلے ہمارا فرض ہے کہ اپنا قرض اتاریں۔میں دیکھتا ہوں کہ بیرونی ممالک کی جماعتوں کے چندے جس نسبت سے بڑھ رہے ہیں اس نسبت سے ہمارے چندے نہیں بڑھ رہے۔مثلاً گولڈ کوسٹ کی جماعت نے اس سال ایک لاکھ رو پہیہ چندہ دیا ہے۔اب انہوں نے ایک لاکھ روپیہ اس کالج کے بھی دینے کا وعدہ کیا ہے جو وہاں بنایا ہے جائے گا۔دیکھو! وہ کتنی نئی اور چھوٹی جماعت ہے لیکن وہ اپنی قربانی کو بڑھا رہی ہے۔اسی طرح مجھے اس بات سے بھی خوشی ہوئی ہے کہ ہندوستان کی جماعتوں نے جو قادیان کے مرکز کے ساتھ وابستہ ہیں قربانی میں معتد بہ حصہ لیا ہے۔گجا یہ حالت تھی کہ اُن کی طرف سے کوئی رقم وصولی نہیں ہو رہی تھی اور گجا