خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 399

خطبات محمود 399 ضرورت ہے اور اگر ہماری نسل کمزور ہورہی ہو تو آئندہ تین نسلوں کا کیا حال ہوگا۔* 1949 پس میں نو جوانوں اور خصوصاً اُن نوجوانوں کو جو مجلس خدام الاحمدیہ میں داخل ہو چکے ہیں ہوشیار کرتا ہوں کہ وہ اپنے مقام اور فرض کو پہچانیں اور اپنے اندر ایسا تغیر پیدا کریں کہ ان کو پہلے لوگوں سے کم ایماندار قرار نہ دیا جائے۔ان کی آگ پہلوں سے زیادہ جوش والی ہونی چاہیے، ان کے شعلے پہلوں سے زیادہ اونچے ہونے چاہیں ، ان کی رفتار پہلوں سے زیادہ تیز ہونی چاہیے۔ان نصائح کے بعد میں تحریک جدید کے دفتر اول کے سولہویں سال اور دفتر دوم کے چھٹے سال کا اعلان کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ دوست اس میں پہلے سے زیادہ حصہ لینے کی کوشش کریں گے اور دفتر دوم میں پہلے سے زیادہ لوگ حصہ لینے کی کوشش کریں گے۔اور گزشتہ سال جو غلطی ان سے سرزد ہوئی ہے اُس کا بھی ازالہ کریں گے اور اس سال میں بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔دیکھو! ہمارے سامنے بہت بڑا کام ہے جو ہمیں کرنا ہے۔جب ہندوستان سے باہر ہم نے اپنا کوئی مبلغ نہیں بھیجا تھا تو دوسرے ممالک کے لوگ ہمیں شرمندہ نہیں کر سکتے تھے کیونکہ وہ ہم سے واقف نہیں تھے۔لیکن اب جبکہ دوسرے ممالک میں ہم اپنے مشن قائم کر چکے ہیں مالی تنگی کی وجہ سے انہیں بند کر دیں تو دنیا ہمیں کتنا ذلیل سمجھے گی۔مثلاً جب تک امریکہ میں ہم نے اپنا مبلغ نہیں بھیجا تھا وہاں کے رہنے والے ہمیں کی شرمندہ نہیں کر سکتے تھے لیکن جب ہم نے اپنا مبلغ بھیج دیا تو آج ہم اگر اس مشن کو بند کر دیں گے تو ہماری آنکھیں اُن کے سامنے ہمیشہ نیچی رہیں گی۔وہ لوگ کہیں گے کہ ایک قوم اُٹھی ، اس نے جھوٹے دعوے کیے کہ ہم حضرت موسی علیہ السلام، حضرت عیسی علیہ السلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر ہیں لیکن جب کام کا وقت آیا تو وہ میدان سے بھگوڑوں کی طرح بھاگ گئی۔پس اگر ہم نے شرمندگی سے بچنا ہے تو ہمیں اپنی قربانیوں کو زیادہ سے زیادہ وسیع کرنا پڑے گا۔میں گزشتہ سالوں میں سال کے اختتام سے تین چار ماہ پہلے چند بار دوستوں کو یاد دہانی کرایا ای کرتا تھا لیکن اس سال میں نے یاد دہانی نہیں کرائی۔اس لیے کہ میں دیکھوں تم خود کیا کرتے ہو؟ آئندہ خطبات میں بھی میں دوستوں کو اس طرف توجہ دلاؤں گا۔لیکن اب صرف ان الفاظ کے ساتھ تحریک جدید کے نئے سال کا آغاز کرتا ہوں۔جو لوگ اس میں پہلے شامل تھے وہ کوشش کریں کہ اس میں زیادہ حصہ لیں۔سوائے اُن کے جو ملازمتوں سے ریٹائر ہو گئے ہیں ان کے لیے رعایت کے وہی کی