خطبات محمود (جلد 30) — Page 370
$ 1949 370 خطبات محمود ان کو ملزم قرار نہیں دیتا۔ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ ملزم ہوں اور واقع میں وہ صحیح راستہ پر آنے کے لیے تیار نہ ہوں۔مگر جس حد تک وہ ملزم ہیں اُس کا خدا تعالیٰ کو ہی علم ہو سکتا ہے مجھے نہیں۔لیکن ایک اور چیز ایسی ہے جس کا مجھے بھی علم ہو سکتا ہے اور جسے خدا تعالیٰ نے میرے اور دوسرے لوگوں کے علم کا ایک ذریعہ بناتی دیا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ جو شخص تین مہینے تک چندہ نہیں دیتا وہ احمدی نہیں۔مجھے یہ تو کوئی کارکن کہہ سکتا ہے کہ میں نے تحریک کی اور انتہاء درجہ کی تحریک کی مگر لوگوں نے نہیں سنی۔ممکن ہے وہ اپنی اس بات میں سچا ہو اور ممکن ہے وہ سچا نہ ہو محض دھوکا دیتا ہو۔بہر حال یہ میرا حق نہیں کہ میں اسے کہوں کہ تو جھوٹ بولتا ہے۔اگر وہ کہتا ہے کہ میں نے تحریک کی اور انتہاء درجہ کی تحریک کی مگر لوگوں نے نہیں مانا تو میں مجبور ہوں کہ اُس کی بات مان لوں۔لیکن میرے اس اگلے سوال کا کیا جواب ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تحریر فرمایا ہے کہ جو شخص تین مہینے تک چندہ نہیں دیتا وہ جماعت سے خارج ہے۔1 آیا اُس نے نادہندوں کے اخراج کے لیے کوئی درخواست بھجوائی؟ اگر ایسے نادہندوں کو جماعت سے خارج کر دیا جائے تو گو جماعت کی تعداد کم ہوتی جائے گی مگر کم سے کم اس چیز کا اخلاقی طور پر ایک غیر معمولی اثر پڑے گا۔اب تو وہ کہتے ہیں کہ اس کی جماعت کا چندہ جس میں سات آٹھ سو مرد ہیں مثلاً پچاس ہزار روپیہ ہے اور سننے والا کہتا ہے کہ اتنی بڑی تعداد کا یہ چندہ بہت تھوڑا ہے۔لیکن فرض کر و جماعت کے آدھے آدمیوں کو خارج کر دیا جاتا ہے اور صرف تین چار سو آدمی رہ جاتے ہیں تو پھر لوگ کیا کہیں گے؟ پھر لوگ یہ کہیں گے کہ تین چار سو کا چندہ پچاس ہزار ہے۔ستر فیصدی لوگوں کو نکال دو تو کہیں گے دوسو یا اڑھائی سو لوگوں کا چندہ پچاس ہزار ہے۔اس طرح جماعت کا رُعب بجائے گرنے کے بڑھ جائے گا اور اس کی عزت اور نیک نامی میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔اب تو سست اور غافل لوگوں کی وجہ سے جو مخلص کارکن ہیں وہ بھی بدنام ہورہے ہیں۔میں کھڑا ہوتا ہوں تو ان کو ملامت کر دیتا ہوں۔کوئی اور کھڑا ہوتا ہے تو ان کو ملامت کرتا ہے ہے۔حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ لاہور میں بھی ایسے ہی قربانی کرنے والے لوگ ہیں جیسے باہر کی جماعتوں کی میں ہیں۔لاہور میں بھی ویسے ہی مخلص ہیں جیسے باہر کی جماعتوں میں ہیں۔لاہور میں بھی ویسے ہی فدائی ہیں جیسے باہر کی جماعتوں میں ہیں۔یہ جماعت مخلصوں اور فدائیوں سے ہرگز خالی نہیں۔اگر خالی ہے تو پچاس ہزار روپیہ کون دیتا ہے۔وہ روپیہ فرشتے نہیں دیتے۔اس جماعت کے مخلصین ہی د۔دیتے