خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 349

$1949 349 خطبات محمود ہمیشہ غالب رہتا ہے۔مرد تبلیغ کرے گا تو جذباتی باتیں تبلیغ میں روک بن جائیں گی دلائل پر بات نہیں آئے گی۔عورت سمجھے گی کہ بوجہ مرد ہونے کے یہ اس بات پر زور دیتے ہیں۔عورت مرد کے مقابلہ میں دلیل کو سوچتی نہیں اس لیے ہماری ہر دلیل بریکار جائے گی۔لیکن یہی باتیں جب ایک عورت کے منہ سے نکلیں گی تو بات جذباتی رنگ میں نہیں رہے گی بلکہ خالص عقلی رنگ اختیار کر جائے گی اور خالص عقلی ای رنگ میں یقیناً ہمارا پہلو غالب رہے گا۔دوسرے عورتیں عورتوں میں تبلیغ کر کے انہیں اسلام کی طرف لے آئیں گی تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ مردگھروں میں بجائے مخالفت کے احمدیت کی تعریف سنیں گے اور اس طرح وہ احمدیت کے زیادہ قریب آجائیں گے۔ان سب باتوں کو سوچنے کے بعد میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں عورتوں میں بھی وقف زندگی کی تحریک کو جاری کروں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس میں مشکلات بھی ہوں گی مگر ان کا حل بھی سوچا جاسکتا ہے۔پھر اگر عورتیں اس تحریک میں شامل ہوں گی تو ان کے لیے علیحدہ نظام قائم کرنا ہوگا اور اسے عورتوں کے سپرد ہی کرنا ہو گا ورنہ مشکلات زیادہ پیدا ہو جائیں گی اور مخالفین کی طرف سے اعتراضات بھی ہوں گے۔لیکن لجنہ کے ذریعہ یہ کام کیا جا سکتا ہے۔جس طرح تحریک جدید مردوں کی کے لیے کام کر رہی ہے اسی طرح لجنہ اماء اللہ عورتوں کے لیے کام کرے گی۔اس کی طرف سے بجٹ آتی جایا کرے گا اور ہم اسے منظور کر دیا کریں گے لیکن خرچ سارا عورتوں کی کمیٹی ہی کرے گی۔یہ کام کس طرح ہو گا اور واقف زندگی عورتوں کی زندگی کیسے گزرے گی؟ یہ بھی ایک نازک سوال ہے۔واقف زندگی عورتیں اگر واقف زندگی مردوں سے نہیں بیا ہی جائیں گی تو بہت سی مشکلات پیش آئیں گی۔خاوند کہیں نوکری کر رہا ہو گا اور عورت کہیں تبلیغی کام کر رہی ہوگی۔اس کاحل یہی ہے کہ جو عورتیں اس تحریک میں شامل ہوں وہ واقف زندگی مردوں سے شادی کریں۔جب وہ واقف زندگی مردوں سے شادی کریں گی تو عورت کو مقدم رکھتے ہوئے ہم اُس کے خاوند کو بھی اُسی علاقہ میں لگا دیں گے جہاں عورت کے کام کو زیادہ اہمیت ہوگی۔پھر تبلیغ کی کیا صورت ہوگی ؟ میں نے اس پر بھی غور کر کے تسلی کر لی ہے۔اس کا انتظام ایک بڑی حد تک ہوسکتا ہے۔اصل سوال شادی کا ہے اور اس کا علاج یہ ہے کہ ایسی عورت کی شادی کی واقف زندگی مرد سے ہو۔یا شروع شروع میں ایسی عورتیں لے لی جائیں جو بیوہ ہوں یا