خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 26

$1949 26 26 خطبات محمود اسلام کی صداقت کے قائل ہیں تو پھر آپ اسے مانتے کیوں نہیں؟ اس ہندو نے کہا مجھے میرے گرو نے سکھایا ہے کہ دین دل کے ساتھ تعلق رکھنے والی چیز ہے۔جب کسی چیز سے دل کا تعلق ہو جاتا ہے تو یہ امر انسان کے لیے کافی ہے۔میراگر و بھی خدا کی ہی باتیں سناتا ہے۔پس جب میں نے اسلام کے ساتھ دل سے تعلق پیدا کر لیا اور مجھے اس سے محبت بھی ہے تو یہ کافی ہے۔ظاہری طور پر اسلام میں داخل ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ میں نے اُس سے کہا کیا آپ کی شادی ہو چکی ہے؟ اس نے جواب دیا ہاں میری شادی ہو چکی ہے۔میں نے کہا تمہارے بچے بھی ہیں؟ اس نے جواب دیا ہاں میرے بچے بھی ہیں۔میں نے کہا کیا تم نے کبھی اپنے بیوی اور بچوں سے پیار بھی کیا ہے؟ اس پر وہ کہنے لگا اپنے بیوی بچوں سے تو لوگ پیار کیا ہی کرتے ہیں۔میں نے کہا کیا تمہارے دل میں ان کے لیے محبت ہے؟ اس نے کہا ہاں میرے دل میں ان کے لیے محبت ہے۔میں نے کہا اگر تمہارے دل میں تمہارے بیوی بچوں کی محبت ہے اور تم یہ کہتے ہو کہ دل میں کسی چیز کی محبت کا ہونا کافی ہے تو پھر تم اپنے بیوی بچوں سے پیار کیوں کرتے ہو؟ دل کی محبت کو ہی کافی کیوں نہیں ہے سمجھتے ؟ اور اگر تم اپنے بیوی بچوں کے لیے اپنے دل کی محبت کو کافی نہیں سمجھتے بلکہ ظاہر میں بھی اُن سے پیار کرنا چاہتے ہو تو پھر خدا تعالیٰ کے لیے یہ بات کیسے کہتے ہو کہ اُس سے دل میں تعلق ہے اس لیے ظاہری عبادت کی ضرورت نہیں۔اس پر وہ بہت شرمندہ ہوا۔بہر حال ظاہر بھی ایک حقیقت رکھتا ہے جیسا کہ باطن حقیقت رکھتا ہے۔اگر ہم نے مغز پر زور دیا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ظاہر کی کوئی حقیقت نہیں۔مغز اپنی جگہ پر قیمت رکھتا ہے اور ظاہر اپنی جگہ پر قیمت رکھتا ہے۔اسلام نے جو احکام دیئے ہیں یا جو باتیں عقلی طور پر ان کے نتیجہ میں سمجھی جاتی ہیں وہ ساری کی ساری ایسی ہیں جن پر عمل کرنا ضروری ہے ورنہ صحیح نتائج پیدا نہیں ہے ہو سکتے۔مثلاً جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے صفیں سیدھی کر لو ورنہ دل ٹیڑھے ہو جائیں گے۔1 اب دیکھو صفوں کے سیدھا ہونے کا دلوں کے ٹیڑھا ہو جانے کے ساتھ کوئی ظاہری تعلق نہیں لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں صفیں سیدھی کرو ورنہ دلوں کے ٹیڑھا ہو جانے کا خطرہ ہے اور آپ اس پر عمل بھی کرواتے تھے۔اسی طرح باقی احکام ہیں۔اگر ہم انہیں رسم کہہ کر چھوڑتے چلے جائیں تو یہ بات ہمیں اسلام سے بہت دور کی