خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 333

$ 1949 333 خطبات محمود اگر وقت لگا کر کام کرنے کی عادت انہیں پڑ جائے تو وہ کامیاب ثابت ہوں گے۔بعض اور نو جوان بھی یسے ہیں جو نہایت اچھا کام کر رہے ہیں بلکہ بعض کی تعلیم بالکل کم ہے لیکن کام کے لحاظ سے نہایت اعلیٰ درجہ کے کارکن ہیں۔مثلاً قریشی عبدالرشید صاحب ایک معمولی کلرک تھے۔ان کی تعلیم صرف انٹرنس کی تک ہے۔میں نے ان کو کام پر لگایا اور اب وہ اچھے وکیل المال ثابت ہورہے ہیں۔جب کبھی حساب کا کوئی پیچیدہ عقدہ پیش آتا ہے تو اس گتھی کو سلجھانے کے لیے انہی کو مقرر کیا جاتا ہے اور وہ نہایت خوش اسلوبی سے اس کو سرانجام دیتے ہیں۔مگر بعض جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ وہ نا کام بھی رہے ہیں اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں ہماری مالی حالت کے گر جانے میں بہت سا دخل ایسے نو جوانوں کا بھی ہے۔اور کچھ اس بات کا بھی دخل ہے کہ ہمارا مرکز لا ہور سے ربوہ چلا گیا جبکہ وہاں ڈاکخانے کا کوئی انتظام نہ تھا اور منی آرڈروں کی تقسیم کا انتظام تو اب تک بھی نہیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ جماعتوں نے چندے بھجوائے اور انہیں رسیدات نہ ملیں تو وہ سُست ہو گئیں اور انہوں نے سمجھا کہ جب ہمارا پہلا چندہ ہی ابھی تک نہیں پہنچا تو ہم اور چندہ کس طرح بھجوائیں۔کچھ دفتروں نے بھی کوتاہیاں کیں اور صحیح طور پر جماعتوں کو یاد دہانیاں نہ کرائیں۔کچھ عملہ کافی نہ تھا جس کی وجہ سے جماعتوں کے جو خطوط آئے اُن کے جوابات کی نہ دیئے گئے اور کچھ منی آرڈر جو بھجوائے گئے تھے وہ رُکے رہے۔ان تمام باتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ باہر کی جماعتوں اور مرکز کا تعلق بہت حد تک کٹ گیا اور جماعتوں میں سستی پیدا ہوگی۔انہیں یہ وہم شروع ہے ہو گیا کہ نہ معلوم ہمارے روپے پہنچ بھی رہے ہیں یا نہیں۔اور جب اس قسم کا وہم پیدا ہو جائے تو لوگ روپیہ بھیجنے میں سستی کر دیتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ جب پہلے روپیہ کے متعلق تسلی ہوگی تب ہم اور بھیجیں گے۔چاہیے تھا کہ ہمارے مرکزی کارکن اس بات کو اچھی طرح واضح کر دیتے کہ ربوہ جانے کی وجہ سے یہ یہ مشکلات پیش آئیں گی ، جماعتوں کو گھبرانا نہیں چاہیے اور چندہ بھجوانے کی رفتار کو قائم رکھنا چاہیے۔انہیں اعلان کرنا چاہیے تھا کہ ربوہ میں ڈاکخانہ نہیں اور اس وجہ سے لازماً منی آرڈر دیر میں پہنچیں گے اور دیر سے ہی جماعتوں کو جواب بھجوائے جاسکیں گے لیکن اس میں ان کے لیے ی گھبراہٹ کی کوئی وجہ نہیں۔ان کے منی آرڈر بہر حال گورنمنٹ کے پاس ہیں وہ ضائع نہیں ہو سکتے اور اگر ضائع ہو جائیں تو گورنمنٹ اس روپیہ کو پورا کرنے کی ذمہ دار ہے۔اس لیے اس وہم میں مبتلا ہو کر کہ چندے کی رسید کیوں نہیں آئی جماعتوں کو چندے بھجوانے میں سستی سے کام نہیں لینا چاہیے۔یہ