خطبات محمود (جلد 30) — Page 307
* 1949 307 خطبات محمود جاتی ہے مگر وہ چاہتا ہے کہ یہ تقریر کچھ دیر اور جاری رہتی۔بہر حال ظاہری مخالفت کا اب وہ دور نہیں رہا جو پہلے ہوا کرتا تھا۔اس لیے گالیوں اور کی مار پیٹ اور ہنسی مذاق کی وجہ سے نوجوانوں کے دلوں میں اپنے دین کے متعلق جو جوش پیدا ہوا کرتا ہے وہ بھی پیدا نہیں ہوسکتا۔یہ دو ہی دنیوی سبب ہوا کرتے ہیں جن کی وجہ سے نئی پود میں ایمان کی مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔مگر اب لاہور میں ظاہری مخالفت بھی نہیں اور نئی پو دکو وہ ماحول بھی میسر نہیں جو اسے ایمان میں مضبوط بنا سکے۔جب بچہ گھر سے نکلتا ہے تو احمدیت کا ماحول اس کے لیے ختم ہو جاتا ہے کیونکہ وہ اکیلا ہوتا ہے اور اس کے اردگرد چار سو غیر لڑ کے موجود ہوتے ہیں جو اُس پر اپنا اثر ڈال رہے ہوتے ہیں۔ہم اپنے بچہ سے کہتے ہیں سینما نہیں دیکھنا مگر ہمارے غیر کا بچہ جو اُس کا دوست اور ساتھی ہے ہوتا ہے سینما دیکھ کر آیا ہوا ہوتا ہے بلکہ سینما کے گانے اسے یاد ہوتے ہیں۔جب وہ سُر تال کے ماتحت فلمی اشعار گا تا ہے تو اس کے کان میں بھی پہلے تو شعروں کی آواز آتی ہے پھر متوازن الفاظ کی وجہ سے ی ان کی طرف اس کی طبیعت اور زیادہ مائل ہوتی ہے اور یہ کان لگا کر اُن شعروں کو سننا شروع کر دیتا تھی ہے۔پھر بچپن میں نقل کی بھی عادت ہوتی ہے۔جب وہ دوسرے کوئے کے ساتھ بعض اشعار پڑھتے سنتا ہے تو اس کی نقل میں خود بھی وہی شعر گنگنانے لگ جاتا ہے اور ماں باپ کا سارا اثر باطل ہو جاتا ہے۔اس کے بعد فرض کرو اُس کی آواز دوسرے لڑکے کی آواز سے زیادہ اچھی ہے تو دوسرا لڑکا جھٹ اُس سے دوستی لگالے گا اور کہے گا آؤ ہم دونوں مل کر گائیں۔پھر کچھ دنوں کے بعد وہ کہے گا چلو ! سینما نی دیکھ آئیں۔یہ کہے گا میرے ماں باپ تو سینما دیکھنے سے منع کرتے ہیں۔وہ کہے گا اُن کو کس نے بتانا کی ہے کہ تم سینما دیکھ کر آئے ہو۔کسی فرشتے نے بتانا ہے۔چلو ! ہم چوری چھپے سینماد یکھ آتے ہیں۔چنانچہ وہ بھی سینما دیکھنے لگ جاتا ہے اور ماں باپ کی ساری کوششیں اکارت چلی جاتی ہیں۔غرض احمدیت جس ماحول کا تقاضا کرتی ہے اُس کو قائم رکھنا کسی کے بس کی بات نہیں۔یہ تو ہم نہیں کر سکتے کہ دروازہ بند کر لیں اور اپنے بچوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے دیں۔اگر اس طرح کیا جائے تو بچہ بالکل کمزور ہو جاتا ہے اور وہ شیطانی حملوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔چنانچہ تجربہ کیا گیا ہے کہ جن بچوں کو بیرونی ماحول سے بالکل بچانے کی کوشش کی جاتی ہے وہ بیرونی اثرات کا بہت جلد شکار ہو جاتے ہیں۔قادیان سے آنے کے بعد ہی ہم نے دیکھا ہے کہ بعض ایسے ایسے گھرانے جنہوں نے