خطبات محمود (جلد 30) — Page 305
* 1949 305 خطبات محمود آگے پیچھے تھیں۔میں بھی اُس شکرم میں تھا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف رکھتے تھے۔جس وقت گاڑی وہاں پہنچی لوگوں نے شور مچانا شروع کر دیا۔میں سمجھتا ہوں غالباً مولویوں نے کی چیلنج دیا ہوگا کہ مرزا صاحب یہاں آئے ہیں تو ہم سے مباحثہ کر لیں۔وہ جانتے تھے کہ اس بے موقع کی آواز کا جواب چونکہ یہی ہوگا کہ ہم مباحثہ نہیں کر سکتے اس لیے ہم لوگوں میں شور مچادیں گے کہ مرزا صاحب ہار گئے۔چنانچہ یہی ہوا۔جب آپ کی شکرم وہاں پہنچی تو لوگوں نے آوازے کسے اور یہ کہنا شروع کیا کہ مرزا صاحب ہار گئے۔غالباً انہوں نے یہی کہا ہوگا کہ ہم سے مباحثہ کر لیں اور چونکہ مباحثہ کا یہ کوئی طریق نہیں ہوتا کہ جہاں کوئی شخص مباحثہ کے لیے کہے وہیں اُس سے مباحثہ شروع کر دیا جائے اسی ہے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انکار کیا ہوگا اور انہوں نے یہ سوچا ہوگا کہ جب گاڑیاں یہاں سے گزریں گی ہم شور مچا دیں گے کہ مرزا صاحب بھاگ گئے ہیں۔اس مسجد کے آگے اونچی چی سیٹرھیاں ہیں۔سات آٹھ سیڑھیاں چڑھ کر مسجد کا دروازہ آتا ہے۔ان سیڑھیوں پر بہت سا ہجوم تھا۔جوی لوگ لاہور کے واقف ہیں وہ شاید سیٹرھیوں کے ذکر سے سمجھ جائیں کہ یہ کونسی مسجد ہے سنہری مسجد یا وزیر خاں کی کی مسجد۔اسی موقع پر بعض دوستوں نے عرض کیا کہ ایسی سیٹرھیاں سنہری مسجد کے آگے ہیں۔سینکڑوں لوگوں کا ہجوم وہاں جمع تھا اور یہ شور مچا رہا تھا کہ مرزا ہار گیا مرزا دوڑ گیا۔اس طرح کوئی ہو ہو کر رہا تھا کوئی تالیاں پیٹ رہا تھا ، کوئی گالیاں دے رہا تھا بلکہ بعض نے کنکر مارنے بھی شروع کر دیئے۔اس ہجوم سے آگے ذرا فاصلے پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دتی دروازہ کے باہر کیونکہ میرے ذہن پر یہی اثر ہے کہ جس جگہ کا یہ واقعہ ہے وہاں جگہ خالی تھی اور عمارتیں تھوڑی سی تھیں میں نے دیکھا کہ ایک شخص ممبر پر یا درخت کی ایک ٹہنی پر بیٹھا ہے۔اُس کا ہاتھ کٹا ہوا ہے اور زرد زرد پٹیاں اُس نے باندھی ہوئی ہیں۔ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے اسے کوئی زخم ہے اور اس نے ہلدی اور تیل وغیرہ ملا کر پٹیاں باندھی ہوئی ہیں۔مجھے خوب یاد ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وہاں سے گزرے تو وہ اپنائنڈ دوسرے ہاتھ پر مار مار کر کہتا تھا کہ مرزا دوڑ گیا مرزا دوڑ گیا۔بچپن کے لحاظ سے مجھے یہ ایک عجیب بات معلوم ہوئی کہ اس کا ایک ہاتھ ہے نہیں صرف ٹنڈ ہی ٹھنڈ ہے مگر یہ اپنا ٹھنڈ مار مار کر بھی یہی کہہ رہا ہے کہ مرزا دوڑ گیا مرزا دوڑ گیا۔ایک اور مولوی ہوا کرتا تھا جو ٹاہلی 2ے والا مولوی“ کہلاتا تھا۔اُس کی عادت