خطبات محمود (جلد 30) — Page 291
خطبات محمود 291 $1949 ނ ، بہرحال ہمارے کالج کے افسروں کے اندر یہ احساس ہونا چاہیے کہ انہوں نے اپنے طالبعلموں کی زندگیوں کو سنوارنا اور انہیں قوم کے لیے اعلیٰ درجہ کا وجود بنانا ہے۔یہاں تک کہ وہ جس محکمہ میں بھی جائیں اس میں چوٹی کے آدمی ثابت ہوں اور کوئی دوسرا شخص ان کا مقابلہ نہ کر سکے۔یہ بات ظاہر ہے کہ ہم اپنی تعداد کے لحاظ سے دنیا کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے اور پھر لوگوں کی کی مخالفت اور ان کا عناد اس کے علاوہ ہے۔اگر ہم کسی وقت ترقی کرتے کرتے 1/1000 - 1/100 تک بھی پہنچ جائیں تب بھی وہ جماعت جو ایک فیصدی ہو وہ ننانوے فیصدی لوگوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔اور جبکہ تعداد کے لحاظ سے ہم کسی صورت میں بھی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے تو کیوں نہ ترقی کر کے ہم میں سے ہر شخص چوٹی کا آدمی بنے کی کوشش کرے۔اور کیوں ہم اپنے اندر اتنی قابلیت اور لیاقت پیدا نہ کر لیں کہ جس وقت کوئی دوسرا شخص یہ سنے کہ یہ احمدی انجنیئر ہے یا احمدی ڈاکٹر ہے احمدی وکیل ہے یا احمدی بیرسٹر ہے یا احمدی تاجر ہے تو وہ کسی انٹرویو کی ضرورت ہی نہ سمجھے بلکہ محض ایک احمدی کا نام سنتے ہی یقین کر لے کہ اس شخص کا اپنے فن میں کوئی اور مقابلہ نہیں کر سکتا۔مگر یہ چیز ایسی ہے ہے جو کالج کی مدد کے بغیر ہمیں حاصل نہیں ہو سکتی۔پس کالج کے عملہ کو میں خاص طور پر اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ لڑکوں کی علمی ، اخلاقی اور مذہبی تربیت کی طرف توجہ کریں۔جس طرح میں نے کہا ہے کہ انہیں لڑکوں کی خوراک کے معاملہ میں خاص طور پر نگرانی رکھنی چاہیے اسی طرح کالج کے عملہ کو لیے لڑکوں کی تربیت میں اس قدر دلچسپی لینی چاہیے اور اس قدر توجہ اور انہماک کے ساتھ انہیں یہ کام کرنا چاہیے کہ ہر شخص کے دل میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ یہ لڑکوں کو کسی غیر کا بیٹا نہیں بلکہ اپنا بیٹا سمجھ کر دے رہے ہیں اور ان کی تربیت کا خاص خیال رکھ رہے ہیں۔اسی طرح مار پیٹ اور جھڑ کیاں دینے کی بجائے انہیں بچوں سے محبت اور پیار کا سلوک کرنا چاہیے۔جب وہ بچوں کے لیے اس قسم کی محبت اور پیار کا نمونہ دکھا ئیں گے تو اس کے نتیجہ میں لازمی طور پر ان کے دلوں میں بھی یہ جذبہ پیدا ہوگا کہ جب یہ لوگ ہماری خاطر مر رہے ہیں تو ہم اپنی خاطر کیوں نہ مریں اور ہم اپنی زندگیوں میں وہ تغیر کی کیوں پیدا نہ کریں جو ہمارے رب کے منشا کے مطابق ہو۔اس طرح وہ زیادہ سے زیادہ وقت دینی کاموں میں صرف کریں گے اور رفتہ رفتہ اپنے آپ کو اچھا شہری بنانے کی کوشش کریں گے۔اسی سلسلہ میں ایک اور نصیحت کالج کے عملہ کو یہ کرنا چاہتا ہوں کہ انہیں لڑکوں کی دماغی تربیت