خطبات محمود (جلد 30) — Page 278
$1949 278 خطبات محمود مطمئن ہونا چاہیے جب دوسرے لوگ بھی نماز پڑھنے لگ جائیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ صریح طور پر فرماتا ہے کہ مومن کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے اہل کو بھی نماز پڑھنے کی تاکید کرتا رہے۔2 سو ا حباب کو نماز کی پابندی کرنے اور نماز کی پابندی کروانے کی طرف خاص طور پر توجہ کرنی چاہیے۔یہ ایک علامت ہے جس سے پتا لگ سکتا ہے کہ تمہارے اندر کس قدر ایمان پایا جاتا ہے اور تم اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے کی اپنے دل میں کس قدر تڑپ رکھتے ہو۔میں تمہیں یہی نہیں کہتا کہ تمہیں فرض نمازوں کی پابندی اختیار کرنی چاہیے بلکہ میں تمہیں یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ تمہیں فرض نمازوں کے علاوہ نوافل کی بھی پابندی کرنی چاہیے تا کہ تمہارے قلب میں نور پیدا ہو اور تمہیں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی حاصل ہو۔آخر جو شخص احمدیت کو قبول کرتا ہے وہ اسی لیے قبول کرتا ہے کہ اس کا خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا ہو جائے۔اللہ تعالیٰ سے تعلق بغیر نماز ، روزہ اور ذکر الہی کی کثرت کے کس طرح پیدا ہو سکتا ہے۔اور اگر کوئی شخص احمدیت کو تو قبول کرتا ہے مگر اپنے اندر ایسا تغیر پیدا نہیں کرتا جس کے نتیجہ میں اسے ی خدا تعالیٰ نظر آنے لگ جائے ، اس سے وہ کلام کرنے کے لیے تیار ہو جائے اور اس سے محبت اور پیار کرے تو ایسی احمدیت کا کیا فائدہ۔اور یہ چیزیں بغیر نمازوں اور نوافل اور ذکر الہی کی پابندی کے حاصل نہیں ہو سکتیں۔آج ہی مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری کا اخبار میں ایک مضمون چھپا ہے جس میں انہوں نے ذکر کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ اطمینانِ قلب حاصل کرنے کا یہی طریق ہے کہ صبر اور استقلال کے ساتھ ذکر الہی اور نمازوں پر زور دیا جائے۔اس کے نتیجہ میں تمہارے دلوں میں وہ چلا پیدا ہو گی جس سے تم بدیوں پر غالب آسکو گے اور خدا تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔یہی چیز ہے جس کی تمہیں ضرورت ہے۔اگر یہ چلا تمہارے دلوں میں پیدا نہ ہوئی تو تمہاری زندگی کیسی اور ایمان کا دعوای کیسا؟ پس کوشش کرو کہ تم اس دنیا کی زندگی میں ہی ای خدا تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لو۔مرنے کے بعد خدا تعالیٰ کو دیکھنے کی امید کوئی اطمینان بخش بات نہیں ہے کہلا سکتی۔اگر انسان مرنے لگے اور اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ نہ معلوم میں دوزخ میں ڈالا جاؤں گا یا جنت میں تو اس کی موت کتنے دکھ کی موت ہوگی۔کتناغم اس پر چھایا ہوا ہوگا اور کس طرح وہ ایک بے چینی اور خلش اپنے دل میں محسوس کرے گا۔سکھ والی موت وہی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ی