خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 247

* 1949 247 خطبات محمود چنانچہ ایک دفعہ اسلامی لشکر جب لڑائی سے واپس آیا تو آپ قیدیوں کا معائنہ فرما رہے تھے۔قیدیوں میں عورتیں مرد سب شامل تھے۔آپ قیدیوں کو دیکھ رہے تھے کہ ایک عورت بولی یا رسول الله ! کیا آپ کو معلوم ہے میں کون ہوں؟ آپ نے فرمایا مجھے معلوم نہیں تم خود ہی بتا دو۔اس نے کہا میں حاتم طائی کی بیٹی ہوں۔پھر اس نے کہا میں نے سنا ہے کہ آپ بڑے محسن ہیں اور محسن محسنوں کی قدر کیا کرتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو جمع کیا اور فرمایا دیکھو ! اس لڑکی ہے کا باپ غریبوں کی مدد کیا کرتا تھا، مسافروں کے کام آتا تھا اور جہاں تک اُس کے بس میں ہوتا وہ دوسروں سے حُسنِ سلوک کرتا۔مجھے یہ دیکھ کر شرم آتی ہے کہ اس کی لڑکی ہمارے پاس قید ہو۔میرا یہ مشورہ ہے کہ انہیں آزاد کر دو۔چنانچہ صحابہ نے صرف اس لڑکی کو ہی نہیں بلکہ اُس کے اصرار پر اُس کی ساری قوم کو آزاد کر دیا۔7 غرض آپ نے اپنے محسنوں سے ہی نیک سلوک نہیں کیا بلکہ دوسرے لوگوں کے محسنوں کی بھی قدر کی ہے۔حاتم طائی کا قبیلہ آپ سے بہت دور رہتا تھا۔اس کا آپ پر کوئی احسان نہ تھا۔آپ نے محض اس لیے کہ ان کا ایک فرد دوسروں سے حسنِ سلوک کیا کرتا تھا ان کی قدر کی اور آزاد کر دیا۔پس قُلْ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ کے معنے نہیں کہ آپ دوسری قربانیاں نہیں کرتے تھے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ میری ساری قربانیاں جو انسانوں کی خاطر ہوتی ہیں وہ بھی خدا تعالیٰ کے واسطہ سے ہوتی ہیں۔بعض لوگ نماز اس لیے ی پڑھتے ہیں کہ ان کے ماں باپ نماز پڑھتے تھے۔وہ صحیح معنوں میں خدا تعالیٰ کی عبادت نہیں ہے کرتے۔بعض دفعہ انسان ایک محسن کی خاطر دینی کاموں میں حصہ لینے لگ جاتا ہے۔مثلاً وہ دیکھتا ہے ہے کہ اس کا استاد دیندار ہے تو وہ بھی دیندار بن جاتا ہے۔اب اس کا یہ فعل خالص خدا تعالیٰ کی رضا کے لیے نہیں ہو گا بلکہ استاد کے لیے ہو گا۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اور دینداری محض خدا تعالیٰ کی خاطر تھی۔گویا ایک وہ ہے جو پیر کی خاطر خدا تعالیٰ کو مانتا ہے اور ایک وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی خاطر پیر کو مانتا ہے۔ادنیٰ درجہ کا مسلمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر اللہ تعالیٰ کو مانتا ہے لیکن اعلیٰ درجہ کا مسلمان وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی خاطر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتا ہے۔