خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 236

$ 1949 236 خطبات محمود حضرت حمزہ پر گو د پڑے۔مگر صبح والا واقعہ صرف حمزہ کو ہی متاثر نہیں کر سکا تھاوہ ابوجہل کے دل پر بھی کاری زخم لگا چکا تھا۔وہ بھی خیال کرتا تھا کہ اُس صبح والے فعل میں معقولیت نہیں پائی جاتی تھی۔ج رؤساء حضرت حمزہ کو مارنے کے لیے اُٹھے تو ابو جہل نے کہا حمزہ کو کچھ نہ کہو۔دراصل مجھ سے ہی صبح کی غلطی ہو گئی تھی۔6 تو دیکھو صلوتِی لِلہ میں کتنی تاثیر پائی جاتی تھی۔وہ نماز جس کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بچوں کے لیے نہیں تھی، وہ نماز جسے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ قوم کے لیے نہیں تھی ، وہ نماز جسے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ جہنم سے ڈر کر بھی نہیں تھی اور نہ ہی جنت کے لالچ کی وجہ سے تھی ، وہ نماز جس کا دیکھنے والا دیکھتا ہے کہ عبادت کرنے والا خدا تعالیٰ کے عشق میں کھڑا ہے اور وہ مطالبہ کر رہا ہے کہ تو مجھے مل جائے۔وہ پہاڑوں کو ہلا دیتی ہے، وہ دریاؤں کو خشک کر دیتی ہے، وہ دلوں پر ایک زلزلہ طاری کر دیتی ہے ایسا زلزلہ جو کوئٹہ اور بہار کے زلزلوں سے بھی زیادہ سخت ہوتا ہے۔یہ نماز اپنی ذات میں تبلیغ ہے۔اس نماز میں اور اس نماز میں جو بتوں کے لیے ہو یا دکھاوے کی غرض سے ہو یا وہ جہنم کے خوف یا انعام کے لالچ کی کی وجہ سے پڑھی جائے زمین و آسمان کا فرق ہے۔بیشک وہ نماز جو بتوں کی خاطر نہیں پڑھی جاتی، وہ کی نماز جو دکھاوے کی خاطر نہیں پڑھی جاتی، وہ نماز جو جہنم کے خوف یا جنت کے لالچ کی وجہ سے پڑھی جاتی ہے وہ بھی نماز ہے لیکن وہ اللہ نہیں۔لِلہ اور خالی نماز میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔غرض قُلْ اِنَّ صَلَاتِ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری نماز میں اور دوسرے لوگوں کی نماز میں فرق ہے۔بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنی قوم کے لیے نماز پڑھتے ہیں، بہت سے لوگ ایسے ہیں جو نماز پڑھتے تو خدا تعالیٰ کے لیے ہیں لیکن دوزخ سے ڈر کے مارے پڑھتے ہیں اور بہت سے لوگ ایسے ہیں جو انعامات کے لالچ کی وجہ سے نماز پڑھتے ہیں۔بیشک یہ مقامات بھی مومن کے ہیں لیکن یہ مومن اعلیٰ درجہ کا نہیں کہلا سکتا۔میں صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر نماز پڑھتا ہوں۔بیشک وہ مجھے دوزخ میں ڈال دے میں نماز پڑھتا چلا جاؤں گا، بیشک وہ کہہ دے کہ جنت کوئی چیز نہیں میں نماز پڑھتا چلا جاؤں گا۔میری نماز تو خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جوں کے لیے نہیں ، قوم کی خاطر نہیں اور نہ شیطان کے لیے ہے۔یہ وہ قیدیں ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز کے ساتھ لگائی ہیں اور فرمایا میری نماز ایسی ہے۔اور دوسری طرف قرآن کریم میں یہ آتا