خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 234

* 1949 234 خطبات محمود خاطر کانٹوں کو بھول جاتا ہے۔اسی طرح اللہ نماز پڑھنے والا باقی سب چیزوں کو بھول جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں نماز پڑھتے تو لوگ آپ کو مارتے۔آخر ان کا قصور کیا تھا؟ صرف یہ کہ آپ کی نماز بتوں کی خاطر نہیں تھی ، رسم ورواج کی خاطر نہیں تھی ، قوم کی خاطر نہیں تھی کسی موہوم نفع کی خاطر نہیں تھی۔اگر آپ کے سامنے کوئی موہوم نفع تھا تو آپ کو آپ کی قوم نے کی یہ پیشکش بھی کی تھی کہ آپ تبلیغ کرنا چھوڑ دیں۔اگر آپ کو شادی کی ضرورت ہو تو قوم کی لڑکیاں حاضر ہیں۔ان میں سے جو سب سے زیادہ خوبصورت ہو اُس سے آپ شادی کر لیں۔اگر آپ کو مال کی ضرورت ہوتو ہمارے مال حاضر ہیں۔۔اگر حکومت کی خواہش ہو تو ہم آپ کو اپنا بادشاہ تسلیم کرنے کو تیار ہیں۔4 لیکن آپ نے فرمایا اگر تم سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں بھی لا کر کھڑا کر دوتب بھی میں تبلیغ کے کام سے باز نہیں آ سکتا۔5 احادیث میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ خانہ کعبہ کے باہر ایک پتھر پر بیٹھے ہوئے تھے۔آپ نے ران پر کہنی اور ہاتھ پر ٹھوڑی رکھی ہوئی تھی اور اشاعت اسلام یا مشرکین مکہ کی ہے مخالفت کے متعلق سوچ رہے تھے کہ اچانک ابو جہل جو کفار کا سردار تھا آیا۔اُس کے دل میں ایک بہیجان پیدا ہوا اور اس نے بے تحاشا آپ کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔وہ گالیاں دیتا رہا لیکن آپ خاموش بیٹھے رہے۔اس پر اسے اور غصہ آیا کہ میں اسے گالیاں بھی دے رہا ہوں لیکن یہ جواب نہیں دیتا۔اسی غصہ میں اس نے آپ کو مارنا شروع کر دیا۔مگر آپ نے اسے کچھ نہیں کہا۔آپ خاموشی سے اٹھے اور اپنے گھر میں تشریف لے گئے۔جس جگہ آپ بیٹھے ہوئے تھے اُس کے قریب ہی حضرت حمزہ کا گھر تھا۔حضرت حمزگا ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے۔آپ کی لونڈی اس نظارہ کو دیکھ رہی تھی۔پرانی لونڈیاں در حقیقت گھر کا ایک حصہ ہی سمجھی جاتی ہیں۔وہ گھر کے بڑے افراد کو اپنے بزرگ ، ہم عمر افراد کو بھائی اور چھوٹوں کو بیٹوں کی طرح سمجھتی ہیں۔اس نظارہ کو دیکھ کر اس لونڈی پر گہرا اثر ہوا اور اُسے حیرت ہوئی کہ ابو جہل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں مار رہا ہے۔اس کا مارنا اور گالیاں دینا اس کے لیے عجیب کی بات تھی۔اس کے اندر ایک ہیجان سا پیدا ہو گیا لیکن وہ کر ہی کیا سکتی تھی۔وہ دل ہی دل میں کڑھتی ہالیا رہی۔حضرت حمزہ باہر شکار کے لیے گئے ہوئے تھے۔انہیں شکار کا بہت شوق تھا اور وہ روزانہ صبح شکار کے لیے جاتے اور شام کو واپس آجاتے۔شام کو وہ تیر کمان لٹکائے شکار ہاتھ میں لیے اور شکاری لباس