خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 220

$ 1949 220 خطبات محمود گویا وہ ایک دوسرے کو مار ڈالیں گے۔4 ہم یہ مانتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں اور ان کے مستعمل پانی میں بھی برکت تھی۔لیکن ہم یہ نہیں مانتے کہ برکت اُس دن ہی تھی پہلے نہیں تھی۔اُس دن اگر صحابہ نے ایسا کیا تو دنیا کو دکھانے کے لیے کیا تھا۔آپ کے شدید ترین دشمن آئے ہوئے تھے اور اُن میں سے ایک نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ تم آوارہ گرد لوگوں پر اعتبار کرتے ہو۔لوگ وقت پر تمہارے کام نہیں آئیں گے۔وقت پر کام آنے والے وہی لوگ ہوں گے جن کا آپ سے خونی رشتہ ہے۔اس لیے صحابہ اُس وقت یہ دکھانا چاہتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قربانی کرنا تو الگ رہا ہمیں آپ سے اتنی محبت ہے کہ تم اس کا خیال بھی نہیں کر سکتے۔ہم تو آپ کے مستعمل پانی کو بھی نیچے گرنے دینا پسند نہیں کرتے۔تو دیکھو وہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، وہی صحابہ تھے اور وہی پانی تھا جو روزانہ پانچ وقت کم سے کم وضو کرتے ہوئے صحابہ کے سامنے نیچے گرتا تھا لیکن حدیبیہ کے موقع پر صحابہ نے اپنی محبت کا یہ نمونہ دکھایا کہ پانی نیچے نہیں گرنے دیا اور ثابت کر دیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو انہیں محبت ہے وہ دشمن کے واہمہ میں بھی نہیں آسکتی۔مگر یہاں تو ایک مقصد تھا جس کو سامنے رکھ کر صحابہ نے ی کام کیا لیکن بعض دفعہ ایسی قربانی بھی کی جاتی ہے جس کا بظاہر کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور قربانی کرنے والا بھی یہ نہیں جانتا کہ وہ کیوں ایسا کر رہا ہے۔وہ صرف اتنا جانتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایسا کرنے کا کی حکم دیا ہے اور وہ اس کے حکم کی فرمانبرداری میں ایسا کر رہا ہے۔صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین مکہ سے صلح کر لی جس کی وجہ سے صحابہ کے اندر اس قدر بے چینی پیدا ہوگئی کہ حضرت عمر جیسا آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور انہوں نے کہا یا رَسُولَ الله ! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ ہم طواف کعبہ کریں گے یا کیا اسلام کے لیے غلبہ مقدر نہیں تھا؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں ! حضرت عمر نے کہا پھر ہم نے دب کر صلح کیوں کر لی؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ ہم طواف کریں گے مگر یہ نہیں تھا کہ اسی سال کریں گے۔5 صحابہ پر اس صدمہ کا اتنا اثر تھا کہ اس کی برداشت ان کے لیے ناممکن ہو گئی تھی۔اس لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب فرمایا کہ قربانیاں یہیں ذبح کر دو تو یہ بات انہیں عجیب سی