خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 197

* 1949 197 خطبات محمود جنہوں نے اپنے اپنے زمانہ میں عظیم الشان تغیر پیدا کیا اور یہی نہیں کہ انہوں نے ایک عظیم الشان تغیر پیدا کر دیا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اُس زمانہ کے لحاظ سے وہی لوگ اس کام کے مناسب تھے۔ان کے علاوہ کوئی دوسرا آدمی وہ کام نہیں کر سکتا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ آیا تو اپنے زمانہ میں آپ ہی مفوضہ فرائض کو سرانجام دینے کے لیے سب سے زیادہ مناسب تھے کوئی دوسرا آدمی وہ کام نہیں کر سکتا تھا جو آپ نے کیا۔چنانچہ جہاں ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ا حدیث کے کہ لو كَانَ مُوسَى وَعِيسَى حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتَّبَاعِی - 1 اگر موسی اور عیسی زندہ ہوتے تو انہیں میری اطاعت کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا یہ معنے کرتے ہیں کہ در حقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت اُس زمانہ سے شروع نہیں ہوئی جب آپ پیدا ہوئے بلکہ آپ کی ختم نبوت حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ سے شروع ہے اور آپ کے ہی مختلف کاموں کے ٹکڑے تھے جو گزشتہ انبیاء پر بطور ارہاص تقسیم کر دیئے گئے تھے۔گویا پہلے انبیاء ایک ایسی بنیاد قائم کرنے کے لیے آئے تھے جس پر محمدی عمارت قائم ہو سکے۔جب گزشتہ انبیاء آپ کی ختم نبوت کو نہیں توڑتے باوجود اس کے کہ آپ ان سے بھی پہلے زمانہ سے خاتم النبیین ہیں اور آپ کے ہی کام کے ٹکڑے اُن پر تقسیم کیے گئے تھے۔تو ایسے نبی کے متعلق جو ظاہر طور پر بھی آپ کے اتباع میں سے ہو یہ کہنا کہ وہ آپ کی ختم نبوت کو توڑتا ہے غلط ہے وہاں اس حدیث کے ایک یہ معنے بھی ہیں کہ آپ نے فرمایا اُس زمانہ کا کام میرے ہی ہاتھ سے ہو سکتا تھا کوئی دوسرا آدمی یہ کام نہیں کر سکتا تھا۔اگر موسیٰ اور عیسی بھی زندہ ہوتے تو وہ بھی اس کام کو نہ کر سکتے اور انہیں میرا مددگار بن کر کام کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نظر نہ آتا۔بیشک اُس وقت موسوی کام بھی جاری تھا۔چنانچہ حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کی اصلاح کے لیے آئے تھے اور بنی اسرائیل آپ کے زمانے میں موجود تھے۔بیشک اس وقت عیسوی کام بھی جاری تھا۔چنانچہ حضرت عیسی علیہ السلام یہود کی اصلاح کے لیے آئے تھے اور وہ اس وقت موجود تھے۔مگر باوجود اس بات کے اُس زمانہ میں اگر حضرت عیسی علیہ السلام ہوتے یا حضرت موسی علیہ السلام ہوتے تب بھی جو فضل اُس وقت آپ پر ہو رہا تھا اُن پر نہ ہوتا۔اور اس زمانہ میں موسیٰ اور عیسی علیہا السلام کی قوموں کی اصلاح کا کام بھی آپ کے ہاتھوں سے ہی سرانجام پاتا۔بیشک وہ دونوں اپنے اپنے وقت کے عظیم الشان نبی تھے اور اپنی قوموں کی اصلاح کی