خطبات محمود (جلد 30) — Page 5
$ 1949 5 خطبات محمود لیے کامیابی مقدر ہے تو یہ یقینی بات ہے کہ ہماری راحت اور خوشی کا دور ہمارے دکھ اور مصیبت کے دور سے بہت بڑا ہوگا اور وہ ہمیں پہلے کی نسبت آگے ہی لے جائے گا۔اور اس کے بعد پھر اگر رنج اور غم کا کوئی دور آیا تو وہ ہمیں اور اوپر لے جائے گا۔لیکن خوشی اور راحت کا ہر دور جو آتا ہے وہ پنے ساتھ رنج اور غم بھی لاتا ہے۔محض اس لیے کہ ہمارے لیے خوشی مقدر ہے ہمیں خوش نہیں ہونا چاہیے۔معلوم نہیں کہ اُس رنج اور غم کے دور میں کون کون شکار ہو جائیں۔جنگوں میں کئی شہید ہوتے ہیں اور کئی زخمی ہوتے ہیں، شاید اس دور میں کئی لوگ منافق ہو جائیں یا مرتد ہو جائیں یا وہ ای اتنی قربانی نہ کر سکیں جتنی قربانی انہیں کرنی چاہیے تھی اور کئی لوگ برکتوں سے محروم ہو جائیں۔اس کے لیے صرف یہ بات کہ ہمارے لیے خوشی مقدر ہے ہمارے لیے اطمینان کا موجب نہیں ہو سکتی۔باوجود اس کے کہ ہمیں یہ یقین ہے کہ ہم ضرور کامیاب ہوں گے وہ رنج اور غم کا دور اپنی اہمیت کو نہیں کھو سکتا۔اس لیے میں احباب کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ آجکل دعاؤں پر خوب زور دیں تا خدا تعالیٰ وہ دن جلد لائے جو ابھی تک رُکا ہوا ہے۔اور وہ برکتیں جلد ملیں جو ابھی تک ہم سے پوشیدہ ہیں۔وہ دن جب آئے گا تو وہ تمام برکتیں جو ہمیں ملنے والی ہیں اور ابھی تک ہم سے پوشیدہ ہیں ظاہر ہوں گی۔اور ہر ایک شخص محسوس کرنے لگے گا کہ ہمارا قدم آگے بڑھ رہا ہے۔اور وہ روک جو ہمارے رستہ میں حائل ہے ہٹ جائے گی۔جیسے ستون کے پیچھے آدمی چُھپ جاتا ہے یا پہاڑ کے پیچھے جو نظارہ ہوتا ہے نظر نہیں آتا اُسی طرح وہ ستون اور وہ پہاڑ جو ہماری کامیابی کے رستہ میں روک ہے ہٹ جائے گا۔میں تفصیل کو بیان کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں لیکن میں ان علوم کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کھولے ہیں یہ جانتا ہوں کہ یہ ابتلاء کا دور جو آ رہا ہے خواہ کتنا بڑا ہی کیوں نہ ہو اس کے بعد آنے والی خوشی جو ہمارے لیے مقدر ہے اس سے بھی بڑی ہوگی۔اور وہ اتنی بڑی ہو گی کہ اگر وہ کی تم میں سے کسی پر ظاہر ہو جائے تو ہنستے ہنستے اُس کی جان نکل جائے یا روتے روتے اُس کی جان نکل جائے۔تمہیں یہ غیب معلوم نہیں۔تم موجودہ حالات کو اور آئندہ کے آثار کو معمولی حادثات سمجھتے ہے ہولیکن میں جانتا ہوں کہ وہ کتنے اہم ہیں۔تم زنجیر کو نہیں دیکھتے کڑی کو دیکھتے ہو اور کڑی دل پر اتنا اثر نہیں کرتی جتنا اثر زنجیر کرتی ہے۔زنجیر موجود ہے مگر اُسے میں ہی جانتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے