خطبات محمود (جلد 30) — Page 106
خطبات محمود 106 * 1949 جلسہ کے اختتام کے بعد جس دن ہم ربوہ سے واپس چلے (یعنی 21 اپریل 1949ء بروز جمعرات) مجھے ایک الہام ہوا۔میں جانتا ہوں کہ مخالف اس سے اور بھی چڑیں گے، شور مچائیں گے۔میں نے جب افتتاحی تقریر کی تھی تو چنیوٹ والوں نے شور مچایا تھا کہ یہ اپنے آپ کو ابراہیم قرار دیتے اور اسماعیل بنتے ہیں۔حالانکہ ہم تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اچھا سمجھتے ہیں۔وہ خواہ چڑ میں یا بُرا منائیں ہم نے تو ابراہیم اور اسماعیل ہی بنا ہے۔وہ اگر چاہیں تو اپنے آپ کو بُرے لوگوں سے تشبیہہ دے لیا کریں۔اب بھی شاید وہ چڑ میں گے مگر ہم خدا تعالی کی باتوں کو چھپا نہیں سکتے۔غرض میں نے جس دن ربوہ سے واپس آنا تھا خاندان کی اکثر سواریاں ٹرین کے ذریعہ آئیں اور میں موٹر کے ذریعہ آیا۔اس سے ایک تو پیسے کی بچت ہوگئی کیونکہ اگر میں موٹر پر نہ آتا تو موٹر نے خالی آنا تھا۔دوسرے وقت کی بچت ہوگئی۔میں ، تین چار مستورات اور دفتر پرائیویٹ کی سیکرٹری کے چند آدمی ہم موٹر پر آئے اور باقی افراد ٹرین کے ذریعہ۔پہلے ٹرین لیٹ تھی اور اس کے آنے میں دیر ہوگئی اور یقین ہو گیا کہ یہ گاڑی لاہور کو جانے والی گاڑی کو نہیں پکڑ سکے گی اس لیے کی ہم نے سب سواریوں کو واپس بلا لیا کہ سب کو لاریوں میں لے جائیں گے۔لیکن جب ٹرین آئی تو تی وی ایک انسپکٹر جو ساتھ تھا اُس نے کہا کہ کچھ ڈبے لاہور سے اگلے جنکشن پر آئے ہوئے ہیں اور آپ لوگوں کے لیے ریزرو ہیں اس لیے اگلی گاڑی ان سواریوں کو لیے بغیر نہیں چلے گی۔اس اطلاع پر پھر سواریوں کو ٹرین کے ذریعہ بھیج دیا گیا۔جب ٹرین چلی تو معلوم ہوا کہ ان کا کھانا رہ گیا ہے۔چنانچہ کھانا موٹر کے ذریعہ چنیوٹ بھجوایا گیا۔اب صورت یہ تھی کہ جب تک موٹر واپس نہ آئے میں لا ہور نہیں آسکتا تھا۔اس لیے میں لیٹ گیا اور مجھ پر ایک غنودگی سی طاری ہوگئی۔اس نیم غنودگی کی حالت میں میں نے دیکھا کہ میں خدا تعالیٰ کو مخاطب کر کے یہ شعر پڑھ رہا ہوں۔جاتے ہوئے حضور کی تقدیر نے جناب پاؤں کے نیچے سے میرے پانی بہا دیا میں نے اسی حالت میں سوچنا شروع کیا کہ اس الہام میں جاتے ہوئے سے کیا مراد ہے؟ اس پر میں نے سمجھا کہ مراد یہ ہے کہ اس وقت تو پانی دستیاب نہیں ہو سکا لیکن جس طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام کے پاؤں رگڑنے سے زمزم پھوٹ پڑا تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ کوئی ایسی