خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 88

$ 1949 88 88 خطبات محمود کی طرف توجہ کریں اور اپنی مجالس میں لغو باتیں نہ کریں۔یہ معمولی بات نہیں۔جب میں آپ کو یہ نصیحت کر رہا ہوں تو میں ننانوے فیصدی یہ سمجھ رہا ہوں کہ میری یہ نصیحت بے کار جائے گی۔کیونکہ یہ اتنا بڑا کام ہے کہ آپ لوگوں میں سے ننانوے فیصدی لوگوں کے لیے یہ کام کرنا مشکل۔اپنے گھر میں اسی قسم کی کئی ایک نصیحتیں کرتا رہتا ہوں۔مگر بچے آہا ہو بہو اور دوسری باتوں میں لگے جاتے ہیں۔ابھی ایک گھنٹہ پہلے انہیں ایک نصیحت کرتا ہوں اور پھر وہ اسے بھول جاتے ہیں حالانکہ انسانی دماغ کی طاقت اور قوت فکر سے پیدا ہوتی ہے۔جو لوگ ذکر وفکر کے عادی ہوتے ہیں اُن کے دماغ میں روشنی پیدا ہو جاتی ہے اور وہ اہم باتوں کے سوچنے اور اُن سے نتائج اخذ کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔کم از کم کچھ دن تو یہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے اور ان دنوں میں لغو باتیں چھوڑ دینی چاہیں۔شریعت نے یہ دیکھتے ہوئے کہ انسان روزانہ بھوکا نہیں رہ سکتا سال میں ایک مہینہ روزے رکھنے کا حکم دیا ہے۔یہ دیکھتے ہوئے کہ انسان ہر وقت خاموش نہیں رہ سکتا نماز کے وقت مسلمانوں کو خاموش رہنے کا حکم دیا ہے۔یہ دیکھتے ہوئے کہ انسان ساری ساری رات نہیں جانگ استانی سکتا رات کو تہجد کے لیے جاگنے کا حکم دیا ہے۔صوفیاء نے اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ دماغ کے چلا ہے اور روشنی کے لیے تین باتوں کا ہونا ضروری ہے کم خفتن و کم گفتن و کم خوردن۔مومن کو چاہیے کہ وہ تھوڑا سوئے ، تھوڑی باتیں کرے اور تھوڑا کھائے۔ان باتوں کے نتیجہ میں روحانیت جلا پاتی ہے اور جن لوگوں میں اس کی عادت پیدا ہو جاتی ہے اُن کا دماغ روشن ہو جاتا ہے، ان کی روحانیت جلا پا جاتی ہے اور وہ اہم باتوں کے سوچنے اور ان سے نتائج اخذ کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ انسان ان باتوں کو ہر وقت کرنے لگ پڑے۔ان باتوں کی بہت کثرت بھی بُری ہوتی ہے ہے۔مثلاً کوئی آدمی بالکل ہی سونا ترک کر دے، باتیں کرنا چھوڑ دے اور کھانا کھانا بند کر دے تو یہ باتیں بجائے مفید ہونے کے مضر ثابت ہوں گی اور بجائے اس کے کہ ان سے کوئی مفید نتیجہ نکلے وہ اس کے لیے عذاب کی صورت اختیار کر جائیں گی۔لیکن جہاں تک ان کو ضبط میں رکھا جاسکتا ہے، جہاں تک ان کو ایک حد میں رکھا جاسکتا ہے، جہاں تک ان کو ایک دائرہ کے اندر رکھا جاسکتا ہے یہ روح کے اندر چلا اور روشنی پیدا کرتی ہیں۔اور تھوڑا بہت بھی اگر ذکر الہی کر لیا جائے تو وہ خدا تعالیٰ کے وصال اور اس کے فرشتوں سے ملاقات کا موقع بہم پہنچاتا ہے۔پس تم اپنے اندر ان کی عادت