خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 84

* 1949 84 خطبات محمود ایک کروڑ والے جتنا محتاج نہیں۔غرض جتنی دولت کسی کے پاس زیادہ ہوتی ہے اتنا ہی وہ زیادہ محتاج ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ ہی غنی ہے جو کسی چیز کا محتاج نہیں۔اُسے کسی قسم کی ضرورت نہیں۔وہ سب چیزوں کا مالک ہے لیکن اُسے ان میں سے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔وہ ہر جاندار کو رزق دیتا ہے یہاں تک کہ وہ زمین کے نیچے دبے ہوئے کیڑوں کو بھی رزق دیتا ہے مگر خود نہیں کھاتا۔وہ تمام چیزیں جن کا نام تم دولت رکھتے ہوا سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا تیں نہ ہی اُسے ان کی ضرورت ہے اور یہی ثبوت ہے کہ وہ غیر محتاج ہے۔جب کسی شخص کو کسی چیز کی ضرورت نہیں ہوتی تو وہ کہتا ہے یہ چیز فلاں کو دے دو۔ایک ان پڑھ آدمی کو اگر کہیں سے قلم مل جائے اور اسے کوئی شخص پوچھے کہ یہ کیا ہے؟ تو وہ کہہ دے گا کہ مجھے کہیں سے یہ چیز ملی ہے اگر تمہیں ضرورت ہو تو لے لو۔وہ تو جہالت کی وجہ سے وہ قلم دے دیتا ہے لیکن خدا تعالیٰ اپنے کمال کی وجہ سے سب چیزیں اپنے بندوں کو دے دیتا ہے۔چاندی سونا اس کے کام نہیں آتا اس لیے وہ اپنے محتاج بندوں کو دے دیتا ہے۔مگر اس کی کے دیئے ہوئے مال سے انسان خیال کر لیتا ہے کہ وہ دولت مند ہو گیا ہے حالانکہ اس کے معنے ہے ہوتے ہیں کہ وہ محتاج ہے۔اس نقطہ نگاہ کو اگر انسان مدنظر رکھے تو قربانی کرنا بالکل آسان ہو جاتا ہے۔اسی چیز کو نامکمل طور پر حضرت عیسی علیہ السلام نے بھی بیان کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں جو تو اپنے گھر میں جمع کرتا ہے اُسے کیڑا کھا جائے گا لیکن جو تو خدا کے گھر میں جمع کرتا ہے وہ کیڑے سے محفوظ رہے گا۔اس کا بھی وہی مفہوم ہے جو میں نے اوپر بیان کیا ہے۔خدا تعالیٰ بھی وہی کچھ کرتا ہے جو تم اپنے بچوں کے ساتھ روزانہ اپنے گھروں میں کرتے ہو لیکن وہ اس کا نام یہ رکھ دیتا ہے ہے کہ یہ مال تم نے بطور قرض مجھے دیا اور کہتا ہے یہ تمہارے لیے ذخیرہ ہے جو تمہیں ملے گا بلکہ اس پر سود بھی ملے گا۔وہ خود سود دیتا ہے لیکن اپنے بندوں کو سود لینے یا دینے سے منع کرتا ہے۔اس لیے کہ انسان کمزور اور غریب ہے اور اس سے سود لینا اُس پر ظلم کرنا ہے لیکن خدا تعالیٰ کہتا ہے ہمارے پاس بہت زیادہ ہے اس لیے ہم سے اگر کوئی سود لے لے تو ہم پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔میں دیکھتا ہوں بعض لوگ جو اچھے اچھے عہدوں پر ہوتے ہیں یا ان کے پاس دولت زیادہ ہوتی ہے وہ اس پر گھمنڈ کرنے لگ جاتے ہیں حالانکہ اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ان کی احتیاج زیادہ ہوگئی ہے۔اگر ایسا نہیں تو پھر زائد دولت کی ضرورت ہی کیا ہے۔زائد دولت کے معنی ہی یہ ہیں