خطبات محمود (جلد 30) — Page 55
1949ء 55 خطبات محمود یہ ضرورت نہیں رہتی کہ اس کی نسبت دس سے پندرہ فیصدی تک بڑھا دی جائے اور میں نے جماعت کے اس مشورہ کو قبول کرتے ہوئے فیصلہ کیا تھا کہ جماعتیں دس فیصدی کے حساب سے چندہ جلسہ سالانہ ادا کیا کریں۔ اگر دس فیصدی چندہ دینے کے بعد بھی ضروریات پوری نہ ہوں تو اس کے بعد اسے پندرہ فیصدی تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ ہم نے جب حفاظت مرکز کے سلسلہ میں اپنی جماعت کی ماہوار آمدن کا اندازہ لگایا تو جو ادھورا اور ناقص اندازہ اندا ہمیں معلوم ہوا ہوا وہ و اندازہ جو کسی اور شخص نے نہیں بلکہ افراد جماعت نے خود اپنے متعلق پیش کیا تھا وہ سوالاکھ روپیہ ماہوار کا تھا۔ یہ اندازہ یقیناً ناقص اور ادھورا تھا۔ بہت سے افراد ایسے تھے جنہوں نے اپنی آمد نیں نہ بتائیں اور بعض ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنی کمزوری کی وجہ سے کم آمدنی بتائی۔ در حقیقت کسی صورت میں بھی ہماری جماعت کی ماہوار آمد پچیس لاکھ روپیہ سے کم نہیں اور پچیس لاکھ پر دس فیصدی چندہ جلسہ سالانہ کے معنے اڑھائی لاکھ روپیہ کے بنتے ہیں لیکن اگر اسی آمد کو صحیح سمجھ لیا جائے جو جماعت کے افراد کی طرف سے پیش کی گئی تھی تب بھی دس فیصدی کے حساب سے ایک لاکھ پینتیس ہزار روپیہ چندہ جلسہ کے لیے جمع ہونا چاہیے۔ مجھے لاہور کی انجمن کا ہی چندہ معلوم ہے کیونکہ میں نے خود رجسٹر دیکھے ہیں۔ یہاں کی جماعت کی ماہوار آمد جو رجسٹروں میں درج ہے وہ پچاس ہزار روپیہ ہے۔ دس فیصدی کے لحاظ سے پانچ ہزار روپیہ صرف لاہور کی جماعت کی طرف سے آنا چاہیے۔ اور ابھی سارے پاکستان میں مشرقی پاکستان میں بھی اور مغربی پاکستان میں بھی بڑی بڑی جماعتیں ہیں۔ اُن سب کے چندے اگر اسی نسبت سے اکٹھے ہوں تو یقیناً ایک بہت بڑی رقم جمع ہو سکتی ہے۔ مگر مجھے یہ معلوم کر کے بہت تعجب اور افسوس ہوا کہ جلسہ سالانہ کے لیے اس وقت صرف ساڑھے اٹھارہ ہزار روپیہ آیا ہے۔ یعنی مہمانوں کے ٹھہرانے کے لیے جو عارضی شیڈ بنائے جارہے ہیں اُن کے بنانے میں بھی ہمیں ڈیڑھ ہزار روپیہ کا گھاٹا رہے گا حالانکہ کسی اور کے اندازہ کے رو سے نہیں بلکہ ہماری جماعت کے خود اپنے اندازہ کے مطابق ایک لاکھ تمہیں ہزار روپیہ صرف دس فیصدی کے حساب سے آنا چاہیے تھا۔ یہ سستی اور غفلت ہماری جماعت میں گزشتہ سالوں میں بعد میں معلوم ہوا کہ رپورٹ میں غلطی ہو گئی تھی ۔ ساڑھے اٹھائیس ہزار کی جگہ ساڑھے اٹھارہ ہزار لکھا گیا تھا۔