خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 43

* 1949 43 خطبات محمود اختیار کی جاتی ہے تو اُس کے لیے دعائیں بھی کی جاتی ہیں، اس کے لیے صدقہ و خیرات بھی کیا جاتا ہے ہے اور اُس کے لیے اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت بھی طلب کی جاتی ہے۔اور یہ بہترین وقت ہمیں جلسہ سالانہ کے دنوں میں ہی میسر آ سکتا ہے۔کیونکہ اس موقع پر وہاں ہزاروں ہزار افراد جمع ہوں گے اور ہزاروں ہزار افراد کے جمع ہونے سے طبیعتوں پر جو اثر ہو سکتا ہے اور ہزاروں ہزار افراد کی متحدہ دعائیں جو تا ثیر اپنے اندر رکھتی ہیں وہ صرف چند افراد کے جمع ہونے سے نہ اثر ہوسکتا ہے اور نہ ان کی دعائیں خواہ وہ سچے دل سے ہی کیوں نہ ہوں اتنی تأثیر رکھ سکتی ہیں جتنی ہزاروں ہزار افراد کی دعائیں اثر رکھتی ہیں۔آخر نماز با جماعت کو اکیلی نماز پر کیوں فوقیت حاصل ہے؟ اسی لیے ہے کہ نماز باجماعت میں بہت سے افراد مل کر دعا کرتے ہیں اور جب بہت سے افراد مل کر دعا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل اور اُس کی برکات کا نزول یقینی ہو جاتا ہے۔فرد ممکن ہے پوری توجہ سے دعا نہ کر سکتا ہو خواہ اس کے روحانی حالات ایسے ہوں کہ وہ دعا نہ کر سکتا ہو اور خواہ اس کے جسمانی حالات ایسے ہوں کہ وہ دعا نہ کر سکتا ہو مگر جب دس ہیں افراد مل کر دعا کرتے ہیں تو اگر پانچ سات کی توجہ دعا کی طرف نہیں ہوتی تو باقی آٹھ دس افراد جو پوری توجہ اور انہماک اور گریہ وزاری کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کر رہے ہوتے ہیں اُن کی دعاؤں کی وجہ سے وہ دو یا پانچ یا سات افراد جو دعا کی طرف توجہ نہیں کر رہے ہوتے وہ بھی اپنے مدعا کو حاصل کر لیتے ہیں۔آثار میں آتا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ کے متعلق حضرت عبداللہ بن زبیر کے چھوٹے بھائی نے جو آپ کے بھانجے تھے کسی موقع پر یہ دیکھ کر حضرت عائشہ اپنے تمام اموال غرباء میں تقسیم کر دیتی ہیں اور جو کچھ آتا ہے صدقہ کر دیتی ہیں اُن کے اس فعل پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔اور چونکہ بھانجے ہی آپ کے وارث ہونے والے تھے اس نے اس بات کو نا پسند کرتے ہوئے کہہ دیا کہ حضرت عائشہ کو اپنا ہاتھ روکنا چاہیے ، وہ اپنے مالوں کو اسراف کے طور پر بانٹتی رہتی ہیں۔حضرت عائشہ نے یہ بات سنی تو سمجھ لیا کہ یہ بات کسی جذ بہ خیر خواہی کے ماتحت نہیں کہی گئی بلکہ محض ایک نفسانی خواہش کے ماتحت کہی گئی ہے۔اس نوجوان کے دل میں یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ اگر روپیہ اسی طرح خرچ ہوتا رہا تو ہمیں کچھ نہیں ملے گا اس لیے حضرت عائشہ کو روکنا چاہیے تا کہ وہ اپنا مال جمع رکھیں اور ہمیں ملے۔پس چونکہ یہ بات