خطبات محمود (جلد 30) — Page 436
$ 1949 436 خطبات محمود جب ہم نے چاہا کہ وہ آجائیں تو خدا تعالیٰ نے کہا نہیں میں ان کا عہد پورا کروں گا۔ماریشس ایک ایسا ملک ہے جہاں بہت ابتدا سے ہمارے مشنری جا رہے ہیں۔میری خلافت کے دوسرے یا تیسرے سال سے وہاں مشنری جا رہے ہیں۔ایسے پرانے ملک کا بھی یہ حق تھا کہ وہ کسی صحابی یا تابعی کی قبر پنے اندر رکھتا ہو۔ہم شرک نہیں کرتے ، ہم قبروں سے میاں لینے والے نہیں، ہم قبروں پر پھول ہے چڑھانے والے نہیں۔ہمیں تو یہ بھی سن کر تعجب آتا ہے کہ ابن سعود کے نمائندے بھی قبروں پر پھول چڑھانے لگ گئے ہیں۔مجھے حیرت آتی ہے کہ اگر کوئی پھول چڑھانے کی مستحق قبر تھی تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر تھی۔کیا حضرت ابوبکر کو پھول نہ ملے کہ وہ آپ کی قبر مبارک پر پھول چڑھاتے ؟ کیا حضرت عمر کو پھول نہ ملے کہ وہ آپ کے مزار پر پھول چڑھاتے ؟ اگر آپ کے مزار پر ان بزرگوں نے پھول چڑھائے ہوتے تو ہم اپنے خون سے پھولوں کے پودوں کو سینچتے ہی تا آپ کے مزار پر پھول چڑھائیں۔مگر افسوس زمانے بدل گئے اور ان کی قدر میں بدل گئیں لیکن ان ہم موحد ہیں مشرک نہیں۔بلکہ ہمیں تو ان موحد وں پر افسوس آتا ہے جو تو حید پر عمل کرتے تھے لیکن اب ان کے نمائندے قبروں پر جاتے ہیں اور پھول چڑھاتے ہیں۔دنیا میں جو لوگ اچھے کام کر جاتے ہیں اُن کی قبروں پر جانا اور اُن کے لیے دعائیں کرنا ہی اُن کے لیے پھول ہیں۔گلاب کے پھول ان کے کام نہیں آتے عقیدت کے پھول ان کے کام آتے ہیں۔اور یہ صحیح ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کی راہ میں جان دیتے ہیں اُن کے مزاروں پر دعا کرنا بسا اوقات بہت بڑی برکتوں کا موجب ہو جاتا ہے۔ان سے مانگنا جائز نہیں۔ہاں ! اُن کی قربانی یاد دلا کر خدا تعالیٰ سے مانگنا چاہیے۔جیسے حضرت عمرؓ کے زمانہ میں قحط پڑا تو آپ نے دعا کی کہ اے اللہ! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ہم آپ کا واسطہ دے کر تجھ سے دعا مانگا کرتے تھے۔اب وہ تو ہمارے پاس نہیں ہیں اُن کے چا عباس کا واسطہ دے کر تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ اس قحط کو چی دور فرما۔جیسے لوگ کہتے ہیں بچوں کا صدقہ۔اسی طرح خدا تعالیٰ سے بھی اُس کے پیاروں کا واسطہ دے کر مانگنا جائز ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ماریشس اس بات کا مستحق تھا کہ اس میں کسی صحابی عالی یا کسی ایسے تابعی کی جس کا زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قریب پہنچتا ہو قبر ہوتا وہ اس کے مزار پر خدا تعالیٰ سے دعا مانگیں۔میں نے صحابی یا تابعی اس لیے کہا ہے کہ مجھے معلوم نہیں