خطبات محمود (جلد 30) — Page 35
$ 1949 35 35 خطبات محمود اور آوازیں سب لہروں میں چلتی ہیں۔غرض خدا تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ اُس کا ہر کام لہر میں چلتا ہے۔هُوَ الْقَابِضُ وَالْبَاسِطُ ایک ہر چلتی ہے۔کبھی وہ ہر اونچی چلی جاتی ہے اور کبھی نیچے چلی جاتی ہے ہے۔اس کے تمام افعال اسی طرح ہیں اور یہی چیز انسان کے اندر بھی پائی جاتی ہے۔انسان خود بھی ای کبھی افسردہ ہوتا ہے اور کبھی خوش ہوتا ہے، کبھی وہ حساب کرنے بیٹھ جاتا ہے کہ آیا میں چندہ دوں یا نہ دوں؟ کبھی وہ نماز کے لیے مسجد میں جاتا ہے تو اُس کا دل چاہتا ہے کہ وہ کبھی سلام ہی نہ پھیرے۔کوئی آدمی اس کے پاس اگر کسی کام کے لیے آتا ہے تو وہ غصہ سے جل جاتا ہے۔مگر دوسرے وقت میں وہ اٹھتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ چونکہ یہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے اس لیے اسے کر ہی لیں۔وہ وقت جب وہ خیال کرتا ہے کہ میں نماز پڑھتا ہی چلا جاؤں اور سلام نہ پھیروں وہ بسط کی حالت ہوتی ہے۔اور جب وہ خیال کرتا ہے کہ چونکہ یہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے اس لیے اسے پورا ای کرلوں قبض کی حالت ہوتی ہے۔ایک وقت ایسا ہوتا ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ آیا اس نے رکوع ہے میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِیم اور سجدہ میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الأعْلیٰ تین تین دفعہ دہرایا ہے یا نہیں کی کیونکہ یہ فقرے کم از کم تین دفعہ دہرانے چاہیں۔یہ قبض کی حالت ہوتی ہے۔لیکن کبھی وہ کہتا ہے کہ تین دفعہ گن کر کیا پڑھنا ہے تین کی بجائے میں دفعہ یا تین سو دفعہ دہرا لیا جائے تو کیا حرج ہے یہ بسط کی حالت ہوتی ہے۔غرض انسان کا ہر کام اور اُس کا ہر عمل قبض اور بسط سے چلتا ہے۔لیکن اس کے نتیجہ میں دو قسم کے سامان اس کی ٹھوکر کے پیدا ہو جاتے ہیں۔جب انسان کو قبض و بسط دونوں حالتوں کا علم ہوجاتا ہے تو بے ایمانی کی حالت بھی چونکہ قبض کی حالت کے مشابہ ہوتی ہے اس لیے بعض دفعہ وہ اس حالت کو اپنے اعمال کا ایک طبعی نتیجہ سمجھ لیتا ہے اور خیال کر لیتا ہے کہ یہ طبعی اُتار چڑھاؤ کی وجہ سے ہے۔مثلاً کبھی انسان کے اندر ہنسنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور کبھی یہ خواہش پیدا نہیں کی ہوتی۔کبھی اُس کے اندر باتیں کرنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور کبھی یہ خواہش پیدا نہیں ہوتی۔لوگ جانتے ہیں کہ فلاں شخص بہت باتیں کرنے والا ہے لیکن بعض دفعہ اس کے پاس اگر کوئی شخص بات کرے تو وہ بُرا مناتا ہے اور کہتا ہے جانے بھی دو میری طبیعت اس وقت خراب ہے۔یہ حالت جہاں طبعی ہوتی ہے وہاں کبھی بیماری کی وجہ سے بھی ہو جاتی ہے۔جس طرح نہ ہنسنا طبعی چیز ہے