خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 425

1949ء 425 خطبات محمود ہمارے ملک میں قصہ مشہور ہے کہ جب مصر میں شہرت ہوئی کہ ایک خوبصورت لڑکا یوسف نامی مصر میں آیا ہے اور شاید وہ مصر کے بازار میں پکے گا تو ایک بڑھیا دوائیاں سوت کی جو اُس نے کاتا تھا یا روئی کے دو گالے جو شاید وہ کہیں سے اُدھار مانگ کر لائی تھی لے کر بازار پہنچی تا اگر موقع ملے تو وہ ان دوائیوں یا روئی کے دوگالوں کے بدلہ میں یوسف جیسے خوبصورت لڑکے کو خرید لے ۔ مگر کجا یوسف جیسا ہو نہار لڑکا اور گجا دوائیوں یا دو گالوں کی حقیر قیمت لیکن وہ گئی کیوں؟ اسی لیے کہ وہ مجھتی تھی کہ یوسف ایسی چیز نہیں جسے ہاتھ سے جانے دیا جائے۔ لیکن اگر یوسف ایسی چیز تھی جس کو چھوڑا نہیں جاسکتا تھا تو یہ لازمی امر ہے کہ اُس کی خریداری بھی زیادہ ہو گی ۔ مگر باوجود اس بات کے اُس کا وہاں جانا اور سوت کی دوائیوں یا روٹی کے دو گالوں سے خریدنے کی امید رکھنا بتاتا ہے کہ اسے یوسف علیہ السلام سے عشق تھا۔ اور عشق اندھا ہوتا ہے۔ جہاں کہیں بھی عشق کی تصویر بنائی گئی ہے اُسے اندھا دکھایا گیا ہے۔ عشق یہ نہیں دیکھا کرتا کہ یہ چیز کیا ہے۔ وہ یہ دیکھتا ہے کہ آیا وہ چیز اُس کے تقاضا کو پورا کرتی ہے یا نہیں ۔ اسی طرح مومن قربانی کرتا ہے۔ وہ یہ نہیں دیکھا کرتا کہ جو قربانی وہ کر رہا ہے اُس کے نتائج بھی پیدا ہوں گے یا نہیں ۔ گجا اس کی قربانی اور گجا اس کا عظیم الشان بدلہ۔ اس کی قربانی کو اس کے بدلہ سے کوئی نسبت ہی نہیں ہوتی ۔ لیکن وہ قربانی کرتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ وہ کام ہو جائے گا اور وہ کام ہو بھی جاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں یہ کتنا عظیم الشان معجزہ تھا کہ حضرت موسی علیہ السلام نے سونا مارا اور دریا پھٹ گیا۔ لوگ کہتے ہیں یہ کتنا بڑا معجزہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے عصا پھینکا اور وہ سانپ بن گیا۔ لوگ کہتے ہیں یہ کتنا بڑا معجزہ ہے کہ موسی علیہ السلام نے چٹان پر سونٹا مارا اور اس سے پانی بہہ نکلا۔ لوگ کہتے ہیں یہ کتنا بڑا معجزہ ہے کہ موسی علیہ السلام کی بددعا سے اُس ملک میں جوئیں کثرت سے پیدا ہو گئیں ۔ بیشک یہ بہت بڑے معجزے ہیں اور کیوں یہ بہت بڑے معجزے نہ ہوں ۔ یہ سب خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے۔ لیکن میں کہتا ہوں سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ ایک مسکین اعلیٰ مقصد کے حصول کے لیے قربانی کرتا ہے ایسی قربانی جس کی اُس کے مقصد کے ساتھ کوئی نسبت نہیں ہوتی ۔ اس کی قربانی کو اس کے مقصد سے وہ نسبت بھی نہیں ہوتی جو سو کو ایک کروڑ سے یا ایک کو لاکھ سے ہوتی ہے اور جنون میں وہ سمجھتا ہے کہ خواہ کچھ قیمت ہو مجھے خدا تعالیٰ سے محبت ہے اور یہ کام ضرور ہو جائے گا۔ اور پھر دیکھو ور