خطبات محمود (جلد 30) — Page 34
$ 1949 34 خطبات محمود غرض قبض و بسط دونوں حالتیں انسان پر آتی رہتی ہیں۔اگر انسان کی ہر وقت ایک ہی قسم کی حالت ہے تو اس کی روح مر جائے۔اگر وہ جسمانی طور پر نہیں تو دماغی طور پر یقیناً مر جائے گا اور وہ پاگل ہو جائے گا۔مجنونوں اور عقلمندوں میں یہی فرق ہوتا ہے کہ مجنون پر ایک ہی حالت ہمیشہ طاری رہتی ہے ہے اور عقلمند پر اُتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔مجنون ایک ہی قسم کے خیالات میں مبتلا رہتا ہے لیکن عقلمند ان شخص کے خیالات ایک ہی قسم کے نہیں رہتے۔غرض قبض و بسط کی حالتیں ہر انسان کے ساتھ لازم کر دی گئی ہیں۔کبھی اس کے اندر خوشی کی حالت پیدا ہوتی ہے اور وہ دین کے لیے سب کچھ قربان کے کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ حساب کرنے بیٹھ جاتا ہے کہ میں کتنی ہے قربانی کرسکتا ہوں۔یہ حساب کرنے والی حالت قبض کی حالت ہوتی ہے۔اور جب کوئی شخص سب ینے کے لیے تیار ہو جاتا ہے اور اس میں خوشی محسوس کرتا ہے وہ بسط کی حالت ہوتی ہے۔مگر نہ وہ بسط کی حالت قطعی طور پر اعلیٰ درجہ کا ایمان کہلاتی ہے اور نہ قبض کی حالت قطعی طور پر کمی ایمان کہلا سکتی ہے۔ہو سکتا ہے کہ بسط کی وہ حالت مصنوعی زیادتی ایمان کا نتیجہ ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ قبض کے کی حالت کمزوری ایمان کا نتیجہ نہ ہو بلکہ طبعی آثار کا نتیجہ ہو جو خدا تعالیٰ نے روحانی ترقی کے راستہ میں پیدا کیے ہیں۔دنیا میں کوئی چیز ایسی نظر نہیں آتی جو ہمیشہ سیدھی ہی چلی جاتی ہو۔تمام قوانین قدرتی لہروں میں چلتے ہیں۔جس طرح لہر کبھی اٹھتی ہے اور کبھی گرتی ہے اسی طرح دنیا کی ہر چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے وہ الہروں میں چلتی ہے۔انسانی صحت کی بھی یہی حالت ہے۔انسان کے جسم کی بناوٹ بھی یہی رنگ رکھتی ہے اور جذبات کی بھی یہی کیفیت ہوتی ہے۔ایک وقت وہ بغیر کسی وجہ کے خوشی اور امنگ محسوس کرتا ہے اور دوسرے وقت وہ بغیر کسی حادثہ کے اپنے آپ کو گرا ہوا اور افسردہ محسوس کرتا ہے۔کسی وقت وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ میلوں میل چل سکتا ہے اور ہر قسم کا بوجھ اٹھا سکتا ہے مگر دوسرے وقت میں وہ یوں محسوس کرتا ہے کہ چار پائی سے بھی نہیں اٹھ سکتا۔غرض کیا بلحاظ دماغ کے اور کیا بلحاظ جسم کے انسان کے اندر لہریں اٹھتی رہتی ہیں اور یہی چیز قانونِ قدرت میں پائی جاتی ہے۔پہاڑوں کے اندر بھی یہی لہر چل رہی ہے ، ستاروں کو دیکھو تو ود بھی ایک لہر کی سی حرکت میں مبتلا ہیں، تمام روشنیاں جو زمین پر گرتی ہیں، اسی طرح تمام ہوائیں