خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 33

1949ء 33 5 خطبات محمود قبض و بسط - انسان کی دو طبعی حالتیں (فرموده 25 فروری 1949ء بمقام لاہور ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: انسانی اعمال ہمیشہ ہی گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں اور قبض و بسط انسان کا ایک خاصہ ہے۔ یہی سلسلہ انسان کے لیے کبھی روحانی ترقیات کا موجب بن جاتا ہے اور کبھی روحانی تباہی کا موجب بن جاتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دفعہ ایک صحابی حاضر ہوئے ۔ وہ رو پڑے اور کہا یا رَسُولَ اللہ ! میں تو منافق ہوں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم تو مومن ہو۔ تم اپنے آپ کو منافق کیوں سمجھتے ہو؟ اس صحابی نے کہا یا رَسُوْلَ اللہ ! میں جب تک آپ کی مجلس میں بیٹھا رہتا ہوں یوں معلوم ہوتا ہے جیسے دوزخ اور دوزح اور جنت میرے سامنے آگئے ہیں اور خشیت کا زور ہوتا ہے لیکن جب میں اپنے گھر جاتا ہوں وہ حالت قائم نہیں رہتی ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ میں مومن نہیں بلکہ منافق ہوں۔ کیونکہ جب میں آپ کی مجلس میں بیٹھتا ہوں تو میری ویسی حالت ہو جاتی ہے کہ خدا تعالیٰ اور جنت و دوزخ مجھے اپنے سامنے نظر آتے ہیں لیکن مجلس سے علیحدہ ہونے پر یہ حالت نہیں رہتی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نے ف فرمایا یہی تو خالص ایمان ہے۔ پھر آپ نے فرمایا اگر انسان ایک حالت پر رہے تو وہ مر نہ جائے۔1