خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 396

1949ء 396 خطبات محمود پاؤں اکھڑ گئے۔ لیکن باوجود اس کے جو تحریک 1947 ء میں ہوئی وہ 1946 ء کی تحریک سے کم نہیں تھی اور وصولی کا حال بھی قریباً ویسے ہی رہا۔ پھر 1948ء میں جو تحریک ہوئی وہ 1947ء کی تحریک سے کم نہیں تھی۔ لیکن 1948ء کی تحریک کے متعلق میں افسوس کے ساتھ کہتا ہوں کہ اس کی وصولی کی نسبت وہ قائم نہیں رہی جو پہلے سالوں کی رہی ہے۔ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں پچھلے سالوں میں سو فیصدی سے بھی زیادہ وصولی ہوئی لیکن اس دفعہ جو وصولی ہوئی ہے وہ کوئی ستر فیصدی کے قریب ہے۔ گویا تمہیں ہا فیصدی وعدے ابھی واجب الادا ہیں۔ اور جیسا کہ میں پہلے اعلان کر چکا ہوا ہوں یہ وصولیاں جاری رکھی جاتی ہیں سوائے اُن لوگوں کے جو بلا عذر چندہ کے ادا کرنے میں کوتاہی کرتے ہیں ۔ انہوں نے بقایا کیا ادا کرنا ہے وہ تو ایک دن خدا کی جماعت سے نکالے جائیں گے۔ باقی لوگ جو مجبوری کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں ہم امید کرتے ہیں کہ باوجود اُن کی کمزوری کے اللہ تعالیٰ انہیں پورا ثواب دے دیتا ہوگا ۔ اور وہ بھی ناخنوں تک کا زور لگا دیں گے کہ اپنے بقائے بھی صاف کریں اور آگے کی طرف بھی قدم بڑھائیں۔ لیکن جو لوگ غفلت اور سستی کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور قربانی کی پوری کوشش نہیں کرتے وہ خدا تعالیٰ کے دربار میں اس مقام پر نہیں پہنچ سکتے جس مقام پر وہ لوگ پہنچتے ہیں جو دین کے لیے اپنی جان تک لڑا دینے میں دریغ نہیں کرتے۔ نومبر 1944ء میں جونئی تحریک کی گئی تھی اور نو جوانوں اور احمدیت میں نئے داخل ہونے والوں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ اس میں حصہ لیں۔ میں افسوس کے ساتھ کہتا ہوں کہ یہ تحریک اُس شان وہ تک نہیں پہنچی جس تک پہلی تحریک پہنچی تھی۔ یقیناً اس وقت کی جماعت اُس جماعت سے بہت زیادہ ہے جو 1934 ء میں تھی ۔ ں۔ اور یقیناً بہت بہت سے نئے آدمی احمدیت میں داخل ہوئے ہیں جو تجارتوں، نوکریوں ، کمائی کمائی اور علم کے لحاظ سے اُس جماء جماعت کے افراد سے بہت زیادہ ہیں جو 1934 ء میں ء میں تھی اور بہت سے نوجوان ایسے ہیں جن کو اب نوکریاں ملی ہیں۔ پہلے انہوں نے اس تحریک میں حصہ نہیں لیا تھا یا پہلے ماں باپ نے رسمی طور پر ان کی طرف سے حصہ لیا ہوا تھا۔ اور اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ ان پر اتنی ذمہ داریاں نہیں جو پہلوں پر ہیں کیونکہ ان میں سے اکثر اہل و عیال والے تھے اور یہ نوجوان یا غیر شادی شدہ ہیں یا ان کے اولاد نہیں اس نئی تحریک کے وقت ان سے یہ امید کی جاتی تھی کہ وہ پہلوں سے پیچھے نہیں رہیں گے۔ لیکن پانچ سالہ دور کے بعد ان کے وعدے صرف ایک لاکھ پندرہ ہزار تک