خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 389

1949ء 389 خطبات محمود ہے؟ اگر وہ خود ایماندار ہو تب تو بیشک اس کی بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے لیکن پھر بھی یہ ضروری نہیں کہ اُس کی بات فی الواقع سچی ہو۔ ہو سکتا ہے کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے محض غلط نہی کی بناء پر ہو۔ دوسری وجہ منافقت کی یہ ہوتی ہے کہ نئی نسل کی تربیت اچھی نہیں ہوتی ۔ پہلے لوگ تو سوچ سمجھ کر ایمان لاتے ہیں لیکن نئی نسل تو سوچ سمجھ کر ایمان نہیں لائی ہوتی ۔ وہ تو پیدائشی احمدی ہوتے ہیں اس لیے بُری تربیت کی وجہ سے وہ جلد منافقت کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ جو سوچ سمجھ کر ایمان لاتا ہے اس کا ایمان اتنا کمزور نہیں ہوتا کہ ٹھوکر کھا جائے۔ لیکن جو شخص سوچ سمجھ کر ایمان نہیں لایا بلکہ محض سمجھ کر پیدائش کی وجہ سے وہ احمدی ہے اُس کا ایمان اتنا مضبوط نہیں ہوتا جتنا اُس شخص کا جو خود سوچ سمجھ کر ایمان لایا ہو ۔ غرض نئی پود میں بھی منافقت زیادہ گھر کر جاتی ہے۔ اب اگر یہ صحیح ہے کہ ہر احمدی کی تربیت اچھی نہیں تو یہ ماننا پڑے گا کہ منافقت احمدیوں میں بھی ہو سکتی ہے۔ منافقت کی تیسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ بعض دفعہ ایماندار اور مخلص شخص بھی کمزوری دکھا جاتا ہے۔ اور چونکہ ہر کمزوری معاف نہیں ہو سکتی اس لیے بعض دفعہ اسے سلسلہ کی طرف سے سزادی جاتی ہے اور بعض اوقات اس سزا کی وجہ سے وہ ٹھوکر کھا جاتا ہے یا اس کے اندر بغض اور کینہ پیدا ہو جاتا ہے۔ پس اگر کوئی شخص منافقت والی بات کر رہا ہو تو دیکھو کہ آیا وہ ایسا شخص تو نہیں جسے کسی جرم کی بناء پر سلسلہ کی طرف سے سزادی گئی ہو؟ یا اس کے کسی قریبی رشتہ دار یا دوست کو سزا دی گئی ہو؟ اگر ایسا ہے تو یہ زیادہ قرین قیاس ہے کہ وہ اپنا بدلہ لے رہا ہے۔ جو لوگ مخلص نہیں وہ میرے مخاطب نہیں ۔ لیکن جو لوگ سچے مبائع اور مخلص ہیں میں انہیں ہدایت دیتا ہوں کہ ایسے لوگ جہاں کہیں بھی ۔ ی ہوں اُن کی اطلاع مجھے دیں۔ بعض اطلاعیں مجھے مل چکی ہیں اور ان کے متعلق میں قدم اُٹھانے والا ہوں لیکن اگر تم لوگ بھی مجھے اطلاع دیتے رہو گے تو مجھے اپنے کام میں مدد ملے گی ۔ مثلاً میرے پاس ایک روایت پہنچتی ہے کہ فلاں شخص منافق ہے لیکن ایک روایت کے ساتھ کسی کے خلاف کوئی قدم نہیں اُٹھایا جاسکتا۔ اور اگر ہم اس شخص کا نام پہلے ہی لے دیں تو اُس کے خلاف غلط روایات جمع ہونی شروع ہو جائیں گی اس لیے ایسا کرنا اس پر ظلم ہوگا۔ پس جماعت کے ہر فرد کو چاہیے کہ جہاں کہیں بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہوں جو ایسے لوگوں کے سامنے باتیں کرتے ہوں جو اصلاح پر مقرر نہیں کیے گئے ان کی اطلاع مجھے دے۔