خطبات محمود (جلد 30) — Page 387
1949ء 387 خطبات محمود خودر و پودے ہیں جو باغ کو ترقی کرنے نہیں دیتے ۔ پھر بعض دفعہ ایک درخت اچھا ہوتا ہے اس میں کیڑا لگ جاتا ہے یا کوئی زہریلا مادہ پیدا ہو جاتا ہے اور وہ سوکھ جاتا ہے۔ باغبان کو وہ درخت بھی باغ سے کاٹ دینا پڑتا ہے کیونکہ اگر وہ اسے نہیں کاٹے گا تو وہ مادہ دوسرے درختوں کو بھی خراب کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ باغبان کو باغ کی حفاظت کرنے کے لیے جہاں گھاس اور دیگر خودر و پودوں کو تلف کرنا پڑتا ہے وہاں ایسے درخت بھی کاٹنے پڑتے ہیں جو کسی وقت میں اچھے امرود یا اچھے انجیر تھے لیکن اب ان کو کیڑا لگ گیا ہے۔ میں نے انجیر اور امرود کے درختوں کا نام اس لیے لیا ہے کہ ان میں کیڑا بہت جلد لگ جاتا ہے اور اگر کیڑا لگے ہوئے درختوں کو کا ٹا نہ جائے تو ان درختوں کو بھی کیڑا لگ جانے کا خطرہ ہوتا ہے جن کو بالعموم کیٹر انہیں لگتا۔ ایک دفعہ میرے باغ میں آم کے ایک درخت کو کیڑا لگ گیا۔ میں نے ایگریکلچرل آفیسر کو کہلا بھیجا کہ میرے باغ میں آم کے ایک درخت کو فلاں کیڑا لگ گیا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ آم کے درخت کو یہ کیڑا لگ ہی نہیں سکتا۔ میں نے اسے گورداسپور سے بلوا کر وہ کیٹر ا لگا ہوا درخت دکھا یا تو وہ بہت حیران ہوا اور اس نے کہا چونکہ اس کے پاس امرود کے درخت تھے اس لیے ان سے وہ کیڑا اس درخت میں چلا گیا ہے ورنہ عام طور پر یہ کیڑا آم کے درخت کو نہیں لگا کرتا۔ گویا قرب کی وجہ سے بعض دفعہ غیر محل پر بھی کسی چیز کا اثر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح بعض دفعہ ان لوگوں میں بھی جو منافقت سے بہت دور ہوتے ہیں اور بظاہر ان میں منافقت کا کیڑا لگنا نا ممکن ہوتا ہے منافقت کا اثر ہو جاتا ہے۔ بالکل اُسی طرح جس طرح زراعت کے افسروں کے نزدیک آم کے درخت کو ایک خاص کیڑا نہیں لگ سکتا لیکن میرے باغ کے ایک آم کو لگ گیا ۔ پس یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ یہ چیز فلاں جگہ آہی نہیں سکتی ۔ بیماری ہر جگہ ہوتی ہے بلکہ بیماری بیداری کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ منافقت کے معنے صرف دین کے خلاف باتوں کے نہیں بلکہ اس کے معنے یہ بھی ہیں کہ کسی شخص کا ایمان کمزور ہو جائے۔ مثلاً جو شخص سچ پر پوری طرح قائم نہیں رہا، نمازوں میں سست ہو گیا طرح: ہے، چندہ دینے میں کمزور ہو گیا ہے وہ بھی منافق ہے۔ یہ گھن ہے جو لگتا چلا جاتا ہے۔ لیکن ایک وہ لوگ ہیں جو اپنے بدنمونہ کی وجہ سے دوسروں کو منافق بنا دیتے ہیں اور ایک وہ لوگ ہیں جو بدنمونہ بھی ہوتے ہیں اور بد زبان بھی۔ اس لیے ان کی اصلاح نہایت ضروری ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ دو قینچیاں