خطبات محمود (جلد 30) — Page 376
1949ء 376 خطبات محمود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے زیادہ تم کو جماعت سے محبت نہیں ہو سکتی ۔ اگر ہم تمہارے اس فعل کو نیکی کہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حکم کو نَعُوذُ بِالله غلط قراردیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ بڑے جابر تھے مگر تم بڑے رحیم و کریم ہو کہ دس دس سال کے نادہندوں کو بھی اپنے ساتھ لٹکائے چلے جاتے ہو۔ تم خود سمجھ لو کہ میں تم دونوں میں سے کس کو حق بجانب قرار دوں؟ تم کو رحیم و کریم کہوں یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو رحیم و کریم کہوں؟ تم کو سچا کہوں یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو؟ میں سمجھتا ہوں کہ جب تک تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی بیعت میں شامل ہو تم یہی کہو گے کہ ہمیں جھوٹا سمجھ لو، ہمیں جابر اور ظالم کہہ لومگر ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایسا کہا جائے اور یہی صحیح جواب ہوگا۔ پس ان حالات میں میں مجبور ہوں کہ تم کو جھوٹا کہوں اور ان کو سچا کہوں تم کو ظالم کہوں اور ان کو رحیم و کریم کہوں ۔ آخر یہ ایک چھوٹی سی چیز ہے اس کے کر لینے میں تمہارا کیا حرج ہے کہ جو لوگ چندہ نہیں دیتے اُن کے متعلق رپورٹ کر دو کہ ہم نے انہیں سمجھانے کی بہت کوشش کی ہے مگر یہ نہیں مانتے ۔ اس لیے انہیں جماعت سے خارج کر دیا جائے ۔ تم کہو گے کہ اگر ہم ایسی رپورٹ کریں گے تو یہاں کی جماعت آدھی رہ جائے گی یا تیسرا حصہ رہ جائے گی ۔ مگر یاد رکھو! جو آدھی جماعت رہ جائے گی یا تیسرا حصہ رہ جائے گی وہ تمہاری نیک نامی اور عزت کا موجب ہوگی اور وہ تمہارے رعب کو سینکڑوں گنے زیادہ بڑھا دے گی ۔ اور جو کام ایک ہزار کی طرف منسوب ہوتا ہے وہ کل اڑھائی سو یا تین سو کی طرف منسوب ہو گا۔ اور اس طرح لازماً اس کا کام زیادہ عمدہ نظر آئے گا ، زیادہ شاندار نظر آئے گا اور جماعت کا رعب پہلے سے کئی گنا بڑھ جائے گا۔ فرض کرو کسی وقت سارا لا ہو ر احمدی ہو جائے اور تمہارا چندہ پچاس ہزار سے بڑھ کر دولاکھ تک پہنچ جائے تو کہنے والے کیا کہیں گے؟ یہی کہیں گے کہ سترہ لاکھ نے دولاکھ چندہ دیا۔ اس سے تمہارا رعب مٹے گا بڑھے گا نہیں۔ ہر شخص کہے گا کہ یہ ایک مردہ قوم ہے جس کے سترہ لاکھ افراد دولاکھ چندہ دے رہے ہیں۔ ہیں۔ لیکن اگر موجودہ جماعت میں سے دو تہائی افراد کو ہم نکال دیتے ہیں اور پھر چندہ اتنا ہی رہے جتنا اس وقت آ رہا ہے تو تمہارا رعب بڑھ جائے گا اور لوگ کہیں گے لاہور کی جماعت کے دوسو یا تین سو آدمی اتنا چندہ دیتے ہیں۔ پس یہ چیز تمہاری شان کو گھٹانے والی نہیں بلکہ تمہاری شان کو بڑھانے والی ہے، تمہاری نیک نامی کو بڑھانے والی ہے۔ تم وہ طریقہ کیوں