خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 375

1949ء 375 خطبات محمود بڑھ رہی ہیں اور جس نسبت سے بڑھ رہی ہیں اُس نسبت سے ہمارے ملک کی جماعتیں ترقی نہیں کر رہیں اور جس نسبت سے انہیں اپنے اخلاص کو قائم رکھنا چاہیے تھا اس نسبت سے وہ اپنے اخلاص کو قائم نہیں رکھ رہیں۔ یہ بھی ایک بڑے فکر کی بات ہے بلکہ اس میں غیرت کا بھی سوال ہے جو دین تو الگ رہا دنیوی معاملات میں بھی پیدا ہونی چاہیے۔ دین ہمارے گھر سے نکلا ۔ خدا نے ہم کو اس بوجھ کے اُٹھانے کے لیے چنا ۔ لیکن بجائے اس کے کہ ہمارے کندھے اس بوجھ کے اُٹھانے کے لیے زیادہ سے زیادہ پھیلتے چلے جاتے اب اس بوجھ کو بیرو نجات کی جماعتیں بہت زیادہ شوق اور اخلاص سے اُٹھا رہی ہیں۔ در حقیقت اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں جس قدر ہماری جماعتیں پائی جاتی ہیں ان سے دسویں حصہ کے برابر باہر کی جماعتیں ہیں لیکن چندے کو دیکھیں تو وہ یہاں کی جماعتوں کے قریباً برابر ہے۔ گویا وہ اس وقت ہم سے دس گنا بوجھ اُٹھا رہی ہیں ۔ پھر جس رفتار سے وہ بڑھ رہی ہیں وہ بتاتی ہے کہ اگلے چار پانچ سال میں وہ تعداد میں بھی بڑھ جائیں گی اور یہ کوئی خوشکن خیال ہمارے لیے نہیں ہوگا ۔ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ خدا تعالیٰ نے ہم کو دس قدم آگے رکھ کر دوڑ کا حکم دیا مگر بجائے اس کے کہ ہم دوسروں سے دس قدم آگے رہتے دوسرے آگے نکل گئے اور ہم پیچھے رہ گئے ۔ پس کوئی نہ کوئی طریق ہم کو اس کے لیے اختیار کرنا چاہیے۔ پہلا طریق تو یہی ہے اور اس کی ہی ہم تم سے امید کرتے ہیں کہ تم محبت اور پیار سے لوگوں کو سمجھاؤ۔ لیکن اگر تم کہتے ہو کہ ہم نے سارا زور لگا لیا مگر وہ اپنی اصلاح نہیں کرتے ، اگر سال کے بعد سال گزرتا چلا جاتا ہے اور وہ بیدار نہیں ہوتے تو تم کیوں ان کے متعلق لمبی امیدیں کرتے چلے جاتے ہو ۔ تم کیوں نہیں سمجھ لیتے کہ وہ مرچکے ہیں اور مرے ہوئے کو بیدار کرنے کی کوشش کرنا ہر گز دانائی نہیں کہلا سکتی۔ تم کیوں ان کی وجہ سے اپنے لیے ذلت سہیڑتے ہو کہ لوگ کہتے ہیں کہ اس جماعت میں ستر فیصدی نادہند ہیں۔ تم مخلص بھی ہو، تم قربانی بھی کرتے ہو مگر دوسرے لوگ تمہاری قربانیوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں اور وہ تمہیں بھی بدنام کر دیتے ہیں مگر تمہیں کوئی غیرت نہیں آتی کہ تم ان کی وجہ سے بدنام ہو رہے ہو ، تم ان کی وجہ سے ذلیل اور رسوا ہو رہے ہو۔ آخر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب ایک بات کہی ہے تو کیا تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی زیادہ رحم دل ہو کہ اس پر عمل نہیں کرتے؟ کہتے ہیں ”ماں سے زیادہ چاہے کتنی کہلائے۔