خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 372

1949ء 372 خطبات محمود درخت تھا جس کے سایہ میں وہ لیٹے ہوئے تھے۔ جب وہ اور زیادہ قریب آیا تو اس شخص نے کہا میاں سپاہی ! ذرا مہربانی کر کے یہ بیر جو میرے سینہ پر پڑا ہوا ہے اُٹھا کر میرے منہ میں ڈال دو۔ ایک کام کرنے والا انسان جو اپنے کسی ضروری کام کے لیے جا رہا ہوا سے ایسی بات سن کر لاز ما غصہ آنا تھا۔ اس نے گالیاں دینی شروع کر دیں کہ تو بڑا نا معقول آدمی ہے۔ میں ایک ضروری کام کے لیے جا رہا تھا کہ تو نے مجھے اپنی طرف بلا لیا اور بلایا بھی اس لیے کہ میں بیر اُٹھا کر تیرے منہ میں ڈال دوں ۔ کیا تو خود اپنے ہاتھ سے بیر اٹھا کر منہ میں نہیں ڈال سکتا تھا ؟ تو نے میرا وقت ضائع کیا ہے۔ میں سو یا پچاس گز کا رستہ کاٹ کر تیرے پاس آیا اور میں نے سمجھا کہ کوئی بڑی مصیبت ہے جس میں تو گرفتار ہے ۔ مگر تو نے کام یہ بتلایا کہ وہ بیر جو تیرے اپنے سینہ پر پڑا ہوا ہے اُسے اُٹھا کر میں تیرے منہ میں ڈال دوں۔ جب وہ گالیاں دے رہا تھا تو دوسرا شخص جو پاس ہی لیٹا ہوا تھا وہ کہنے لگا میاں ! اسے کیوں گالیاں دیتے ہو۔ یہ تو بالکل لا علاج ہے۔ ان گالیوں سے اس کا بنتا ہی کیا ہے۔ یہ تو اتناست اور نکتا ہے کہ ساری رات گتا میرا منہ چاہتا رہا مگر اس کمبخت نے اُسے ہشت تک نہیں کی۔ خیر سپاہی چپ ہو گیا۔ دلیل سے نہیں بلکہ اس بات کو دیکھ کر کہ یہ تو اُس سے بھی گیا گزرا ہے۔ ساری رات یہ آپ جاگتا رہا مگر امید یہ کرتا رہا کہ دوسرا شخص ہشت کرے گا۔ اسی طرح جو کا رکن یہ کہتا ہے کہ میں چھ مہینے تک لگا تار کام کرتا رہا مگر اس کی حالت یہ ہے کہ وہ کسی ناد ہند کے خلاف رپورٹ نہیں کرتا۔ اس کے متعلق ہم یہی سمجھیں گے کہ وہ کام نہیں کرتا۔ وہ سست اور نکما آدمی ہے۔ اگر اس نے چھ مہینے تک کام کیا ہے تو چھ مہینے میں وہ دفتر کو یہ خط کیوں نہیں لکھ سکا کہ فلاں فلاں لوگوں کو جماعت میں سے نکال دیا جائے ۔ اس کا خط نہ لکھنا بتاتا ہے کہ اس کا یہ کہنا کہ میں نے پوری کوشش کی بالکل غلط ہے ۔ اور اگر نادانی کی وجہ سے اس نے ایسا نہیں کیا یا اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس حکم کا علم نہیں تھا تو اس حکم کو میں نے اب یاد کرا دیا ہے۔ ہر وہ محاسب اور ہر وہ محصّل جو چندہ کی نامکمل لسٹ دیتا ہے وہ : لسٹ دیتا ہے وہ مجرم ہوگا۔ جب تک وہ یہ ثابت نہ کرے کہ اس نے چندہ نہ دینے والوں کے متعلق یہ رپورٹ کر دی ہے کہ انہیں جماعت سے خارج کر دیا جائے۔ یہ کوئی ایسا کام نہیں جو تم کر نہ سکو ۔ تم کہہ سکتے ہو کہ ہم ہر شخص کو مجبور نہیں کر سکتے کہ وہ چندہ دے، تم کہہ سکتے ہو کہ ایک منافق کی اصلاح ہمارے بس کی بات نہیں، تم کہہ سکتے ہو کہ ایک کمزور