خطبات محمود (جلد 30) — Page 371
1949ء 371 خطبات محمود ہیں۔ مگر وہ لوگ جو سست اور غافل ہیں وہ ان مخلصین کی بدنامی کا موجب ہو جاتے ہیں۔ اگر ان کو الگ کر دیا جائے گا تو یہ لازمی بات ہے کہ یہ بدنامی ہٹ جائے گی اور ہمارے دلوں میں بھی یہا احساس پیدا ہو گا کہ یہ مخلصوں اور ایمانداروں کی جماعت ہے۔ اب تو ان کمزوروں کی وجہ سے مخلصوں کا اخلاص اور مومنوں کا ایمان بھی پوشیدہ ہو جاتا ہے اور بجائے تعریف کے جماعت کو بدنامی حاصل ہوتی ہے۔ پس کا رکن بتائیں کہ وہ میرے اس سوال کا کیا جواب دیتے ہیں اور اس میں کونسی روک ہے جس کی وجہ سے ان کے خلاف رپورٹ نہیں کر سکتے ؟ کیا جب وہ یہ لکھنے لگتے ہیں کہ فلاں فلاں شخص نے چھ ماہ کا چندہ ادا نہیں کیا تو محلہ کے لوگ ان کا قلم توڑ دیتے اور ان کے کاغذ کو پھاڑ دیتے ہیں ؟ آخر کونسی چیز ہے جو انہیں روکتی ہے؟ لازمی بات ہے کہ اس میں سستی کا دخل ہے یا لحاظ کا دخل ہے۔ اور یہ دونوں چیزیں قابلِ افسوس ہیں۔ اگر سستی ہے تب بھی قابلِ افسوس ہے اور اگر لحاظ اس کا باعث ہے تب بھی قابلِ افسوس ہے، اور اگر کوئی شخص اتنا سست ہے کہ چھ ماہ کے بعد ایک رپورٹ بھی نہیں لکھ سکتا، ایسی رپورٹ جس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لازمی قرار دیا ہے تو ہم اس بات کو کیونکرمان لیں کہ اس نے چندہ کی وصولی کی پوری کوشش کی ہوگی ۔ جو شخص چھ مہینہ میں ایک خط بھی نہیں لکھ سکتا اس کا یہ کہنا کہ میں چھ ماہ لگا تار نادہندوں کی اصلاح اور چندہ کی وصولی کی کوشش کرتا رہا ہوں یہ تو جھوٹ بن جاتا ہے۔ بہر حال اس کا رپورٹ نہ کرنا بتاتا ہے کہ قصور اسی کا ہے۔ اگر وہ واقع میں پست ہوتا تو جب وہ ایک بڑا کام کر رہا ہے تو چھوٹا کام کیوں نہ کرتا ۔ اس کا چھوٹا سا کام بھی نہ کرنا بتاتا ہے کہ جب وہ یہ کہتا ہے کہ میں بڑا کام کر رہا ہوں تو وہ جھوٹ بولتا ہے۔ ہمارے ملک میں قصہ مشہور ہے کہ دو نکتے آدمی کسی جنگل میں ایک درخت کے نیچے لیٹے ہوئے تھے کہ ان میں سے ایک شخص نے دور سے ایک سپاہی کو دیکھا جو اپنے کسی کام کے لیے جارہا تھا۔ اس نے زور زور سے سپاہی کو آوازیں دینی شروع کیں کہ ارے میاں سپاہی ! ذرا اِدھر آنا۔ خدا کے لیے جلدی آنا سخت ضروری کام ہے۔ سپاہی نے یہ آوازیں سنیں تو اس نے سمجھا کہ کوئی مصیبت زدہ انسان مجھے بلا رہا ہے۔ معلوم نہیں وہ کسی مصیبت میں گرفتار ہے مجھے جلدی پہنچنا چاہیے تا کہ میں اس کی مدد کروں ۔ چنانچہ وہ اپنا راستہ چھوڑ کر جلدی جلدی وہاں پہنچا۔ جب وہ قریب آیا تو اس نے دیکھا کہ دو آدمی پیٹھ کے بل لیٹے ہوئے ہیں اور ان میں سے ایک شخص کے سینہ پر ایک بیرگرا ہوا ہے۔ اوپر بیری کا