خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 369

1949ء 369 خطبات محمود جس سے فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ اگر مسجد کے لیے کافی جگہ مل جائے تو اس کے ساتھ ایسے کمرے بھی بنا دیئے جائیں جو عارضی رہائش کے لیے استعمال کیے جاسکیں۔ ان کا رخ مسجد کی طرف نہ ہو اور کمرے نسبتاً فراخ ہوں اور وہ ان لوگوں کو کرایہ پر دیئے جایا کریں جو چند دنوں کے لیے لاہور آتے رہتے ہیں۔ گویا وہ کمرے سرائے کے طور پر استعمال ہوں۔ بڑے شہروں میں لوگوں کو عارضی رہائش کے لیے مکانات کا میسر آنا مشکل ہوتا ہے اور اگر ملیں تو بہت گراں ملتے ہیں ۔ پس ایک تو ہمیں زیادہ کھلی جگہ میں مسجد بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ دوسرے ایک ہال کی تعمیر کا پروگرام اپنے مد نظر رکھنا چاہیے۔ یہ ضروری نہیں کہ ہاں بہت بڑا ہو۔ پچاس ساٹھ یا سو گر سیاں اگر اس میں آجائیں تو وہ کافی ہو گا۔ دراصل ہر ہفتہ اتنے ہی آسکتے ہیں لیکن فرض کرو اتنے آدمی نہیں آتے اور صرف ہیں آدمی ہر اتوار کو آ جاتے ہیں تو بھی اس کے یہ معنے ہوں گے کہ مہینہ بھر میں اسی اور سال بھر میں ایک ہزار تعلیم یافتہ آدمی ہمارے لیکچروں میں شریک ہو جائیں گے ۔ اور یہ تعداد بھی کچھ کم نہیں ۔ اور لائبریری سے تو ہزار دو ہزار آدمی سال بھر میں فائدہ اُٹھا سکتا ہے اور ہمارے مربیوں کے لیے کام بھی نکل سکتا ہے۔ اس وقت صورت یہ ہے کہ سوائے پاکستان سے باہر کی جماعتوں کے اور سوائے پاکستان کی خاص خاص جگہوں کے باقی مقامات پر مربی بالعموم بیکار بیٹھے رہتے ہیں ۔ اس طرح انکی دینی طاقت بھی ضائع ہوتی ہے اور جماعت بھی ترقی نہیں کرتی۔ اگر لائبریری ہو تو لازماً مربی کے لیے کام نکل آئے گا۔ جو لوگ وہاں آئیں گے اُن سے اسے گفتگو کرنی پڑے گی اور پھر ان کے پتے لے کر ان سے تعلق قائم رکھنا پڑے گا۔ اور یہ چیز ایسی ہے جس کے نتیجہ میں وہ سُست نہیں رہ سکتا یا کم سے کم اگر وہ سُست ہو تو وہ اپنی سستی کو چھپا نہیں سکے گا۔ اسے ماننا پڑے گا کہ وہ سُست ہے۔ اور ہم اس پر ثابت کر سکیں گے کہ کام کا موقع تھا مگر اس نے نہیں کیا۔ لیکن اب ہم ثابت نہیں کر سکتے کہ کام کا موقع تھا مگر تم نے نہیں کیا۔ اس کے علاوہ جو دہیں جماعتی طور پر پیش آ رہی ہیں اُن کی طرف بھی ہمیں توجہ رکھنی چاہیے۔ مثلاً میرے پاس ایک لسٹ آئی ہے جس سے پتا لگتا ہے کہ لاہور کی جماعت میں اس وقت ستر فیصدی ناد ہند ہیں اور صرف تیس فیصدی چندہ دینے والے ہیں۔ میرے نزدیک اس کی ذمہ داری کارکنوں پر عائد ہوتی ہے۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ کوئی شخص ایسا نہیں ہو سکتا جسے کارکن صحیح اور سیدھے راستہ پر نہیں چلا سکتے ۔ اگر انبیاء بھی بعض لوگوں کو سیدھے راستہ پر نہیں چلا سکے تو کارکن کہاں چلا سکتے ہیں۔ میں اس میں