خطبات محمود (جلد 30) — Page 351
1949ء 351 خطبات محمود اور پھر وہ لڑکیاں جن کے والدین اجازت دے دیں اور وہ مجھتی ہوں کہ وہ تبلیغ کر سکتی ہیں وہ آگے آئیں۔ لیکن وہ یاد رکھیں کہ وہ سلسلہ کے لیے اُسی وقت ہی مفید ہو سکتی ہیں جب اُن کے خاوند واقف زندگی ہوں ۔ اُن کی اگر کسی واقف زندگی سے منگنی ہوگئی ہے تو پھر اُن کے لیے اس تحریک میں شامل ہونا آسان ہے۔ یا اگر وہ مجھتی ہیں کہ وہ اپنے جذبات پر قابو پالیں گی اور شادی کے لیے اپنے انتخاب کو واقفین تک ہی محدود کر سکیں گی تو وہ آگے آئیں اور اس تحریک میں شامل ہوں ۔ کل جب میں محدود گی تو اور ہوں۔ نے اس تحریک کا ذکر کیا تو ایک لڑکی نے کہا میں بھی اپنی زندگی وقف کرنا چاہتی ہوں۔ میں نے اُس لڑکی سے کہا پہلے تم اپنے خاوند کی زندگی وقف کراؤ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس ذریعہ سے تبلیغ بہت زیادہ کارآمد ہو جائے گی اور اس سے بہت زیادہ مفید نتائج پیدا ہوں گے۔ اور یہ پردہ جو صرف جسم پر ہی نہیں عقلوں پر بھی پڑا ہوا تھا دور ہو جائے گا اور چند سال تک ہماری تبلیغ بیسیوں گنے زیادہ ہو جائے گی۔ لیکن اس کے لیے نیا انتظام کرنا ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ مردوں کے لیے جو وقف زندگی کا نظام قائم کیا گیا ہے وہ بھی ناقص ہے۔ دو سال تک میں اس پر غور کرتا رہا ہوں ۔ خدا نے چاہا تو جب میں ربوہ میں مستقل رہائش اختیار کرلوں تو اُس وقت انتظام میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جائیں گی جو سلسلہ کے لیے زیادہ مفید اور زیادہ کارآمد ہو سکیں گی۔ الفضل 26 اپریل 1950ء) 1 : مزمن : پرانا کہنہ۔ دیرینہ (فیروز اللغات اردو ) 2 : کرانک (Chronic): دائم المرض سدا روگی 3 :مسلم كتاب الجمعة باب تخفيف الصلوة و الخطبة