خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 27

* 1949 27 خطبات محمود لے جائے گی۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت تھی کہ آپ قبلہ رخ ہو کر اذان دینا سکھاتے تھے اور اسی پر عمل کرواتے تھے۔اب لاؤڈ سپیکر کے نکل آنے کی وجہ سے ایک غلط طریق می نظر آتا ہے کہ جدھر چاہا منہ کر کے اذان دے دی اور کہہ دیا اذان ہی دینی ہے جدھر چاہا منہ کر کے دے دی۔یہ بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف ہے۔اُمم طاہر جب بیمار تھیں اور ہسپتال میں ان کا آپریشن ہوا تھا تو چونکہ آپریشن کے بعد زخموں میں یا دوائیوں سے بُو آنے کا ڈر ہوتا ہے اس لیے ڈاکٹر عام طور پر ، اور ڈی کلون (Eau De Cologne) ایسے بیماروں کے گرد یا چہرہ یا سر پر چھڑکتے رہتے ہیں۔ان کو بھی ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ آپ اور ڈی کلون منگوا کر پاس رکھیں اور وقتا فوقتا چھڑکتے رہیں۔جنگ کی وجہ سے چیزیں بازار سے نہیں ملتی تھیں اس لیے جو آدمی بازار گئے وہ اور ڈی کلون نہ لا سکے۔اس لیے میں ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کو ساتھ لے کر او۔ڈی کلون کی تلاش میں نکلا۔مجھے یاد ہے ہم ایک بڑی ڈاکٹری ادویہ کی دکان پر گئے۔اس کے مالک سے جو سکھ تھا ہم نے دریافت کیا کہ کیا تمہارے پاس اور ڈی کلون ہے؟ اس نے کہا ہاں میرے پاس او ڈی کلون ہے اور ایک بوتل لا کر ہمیں دکھائی۔میں نے وہ بوتل دیکھی اور کہا کیا یہ اصلی چیز ہے؟ اس بوتل پر لیبل تو تمہارا اپنا لگا ہوا ہے۔اس نے کہا آپ کو تو او۔ڈی کلون چاہیے خواہ اس پر لیبل کوئی لگا ہو۔میں نے وہ بوتل کھولی تو اس میں وہ خوشبو نہیں تھی جو او۔ڈی کلون میں ہوا کرتی ہے۔او۔ڈی کلون کا بڑا جز وسنگترے کا تیل ہوتا ہے۔میں نے اس دکاندار سے کہا اس بوتل سے مصنوعی مشک کی خوشبو آتی ہے او۔ڈی کلون کی خوشبو نہیں آتی۔اس پر وہ کہنے لگاؤ ہی چاہیے کوئی ہو ( وہ لوگ خوشبو کو بھی بُو کہتے ہیں)۔یہی حال ان لوگوں کا ہے جو احکام شریعت کو یہ کہ کر پس پشت ڈال دیتے ہیں کہ حکم پر عمل کرنا ہے خواہ کسی طرح ہو۔بہر حال اذان دینے کا وہ طریق درست نہیں جو اس وقت اختیار کیا گیا ہے۔پھر خطبہ کا یہ طریق ہوتا ہے کہ مخاطب امام کی طرف رُخ کر کے بیٹھے ہوں اور اس کی طرف متوجہ ہوں 2ے لیکن آج پہلے قبلہ رخ کر کے صفیں بنوا دی گئیں اور پھر امام کو یہاں سٹیج پر لا کر کھڑا کر دیا گیا۔امام یہاں سٹیج پر کھڑا ہے اور مخاطب دوسری طرف منہ کیے صفیں باندھے بیٹھے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے انہیں خطبہ کی طرف کوئی رغبت ہی نہیں اس لیے وہ دوسری طرف متوجہ ہیں۔کر صفوں کے سیدھا نہ ہونے کی وجہ سے دل ٹیڑھے ہو جاتے ہیں تو آج جو طریقہ اختیار کیا گیا۔