خطبات محمود (جلد 30) — Page 350
$ 1949 خطبات محمود 350 بڑی عمر کی ہوں۔ان کے بچے جوان ہو چکے ہوں۔انہیں گھروں میں کوئی خاص کام نہ ہو اور اُن کے مرد بھی انہیں اجازت دے دیں کہ وہ اشاعت اسلام کا کام کریں۔ایسی عورتوں کو ہم کہیں گے کہ جاؤ تم دین کی خدمت کرو۔شریعت نے تمہیں اُن قیود سے آزاد کر دیا ہے جو اسلام کی وجہ سے ایک نوجوان کی عورت پر عائد ہوتی ہیں۔شروع شروع میں ایسی عورتوں کو تربیت دے کر کام کو فوراً شروع کر دینا ہیے۔اس کے بعد وہ لڑکیاں جن کو اُن کے والدین اجازت دیں انہیں صنعت و حرفت اور دوسری چیزیں جو عورتوں میں تبلیغ کے لیے ضروری ہیں سکھا کر اور دینی تعلیم دے کر باہر بھجوایا جائے۔یہ ایک نئی چیز ہے لیکن مسیح اول کے زمانہ میں اس پر عمل ہوا ہے۔ہمارے سامنے بھی وہ مشکلات درپیش ہیں جو مسیح اول کو در پیش آئیں۔اس لیے انہیں دور کرنے کے لیے وہی طریقہ استعمال کیا جائے گا جو مسیح اول کے حواریوں نے کیا۔وہ بھی عورتوں سے تبلیغ کا کام لینے پر مجبور ہو گئے تھے اور ہم بھی عورتوں سے تبلیغ کا کام لینے کے لیے مجبور نظر آتے ہیں۔قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کو وہ مشکلات پیش نہیں آئی تھیں جو ہمیں پیش آ رہی ہیں کیونکہ وہ حضرت موسی علیہ السلام کی قوم کے مثیل تھے لیکن کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جہاں مہدی اور احمد تھے وہاں آپ کو عیسی اور مسیح کا نام بھی دیا گیا ہے۔مسیح اور عیسی ہونے کی وجہ سے آپ کو بھی وہی مشکلات پیش آئیں گی جو مسیح اول کو پیش آئیں۔اور ی ان کے دور کرنے کے لیے وہی طریقہ استعمال کیا جائے گا جو مسیح اول کے حواریوں نے استعمال کیا۔کوئی بیوقوف یہ کہہ سکتا ہے کہ مسیح اول کی قوم میں شرک بھی پیدا ہو گیا تھا لیکن اُسے یہ یادرکھنا چاہیے کہ مشابہت کے یہ معنے نہیں کہ ہر وہ بات کی جائے جو مسیح اول کی قوم میں پائی جاتی تھی۔پھر ہم یہ مان نہیں ہے سکتے کہ میں اول کے بچے حواریوں میں شرک پیدا ہوا تھا۔شرک مرتدین میں پیدا ہوا تھا۔اور ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم مرتدین کی نقل کریں گے۔ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم مومنوں کی نقل کریں گے۔اور جو کام خلا اور مومنین کرتے تھے اُن میں یہ بھی شامل تھا کہ انہوں نے عورتوں سے تبلیغ کا کام لیا بلکہ فلسطین میں حضرت مسیح علیہ السلام کی موجودگی میں عورتوں سے یہ کام لیا گیا۔مخلصین پس اس اعلان کے ذریعہ میں اس نئے پہلو کو بھی جماعت کے سامنے رکھتا ہوں۔ایسی عورتیں جوگھر یلوذمہ داریوں سے آزاد ہو گئی ہوں اور وہ سمجھتی ہوں کہ وہ سلسلہ کے لیے مفید ہوسکتی ہیں انہیں میں تحریک کرتا ہوں کہ اگر خدا تعالیٰ انہیں توفیق دے تو وہ اپنی بقیہ عمر احمدیت کی تبلیغ میں لگائیں۔