خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 335

$ 1949 335 خطبات محمود قادیان سے جب ہم لاہور آئے تو یہاں عملہ ملنا مشکل ہو گیا۔کیونکہ لاہور کے اخراجات کی زیادتی کی وجہ سے لوگ ہم سے زیادہ تنخواہیں مانگتے تھے اور ہم انہیں اتنی تنخواہیں دے نہیں سکتے تھے۔اب ربوہ میں عملہ کی کمی کی شکایت خدا تعالیٰ کے فضل سے دور ہو رہی ہے۔لیکن ڈاکخانہ کی بعض مشکلات ابھی جاری ہیں۔میں بائیس دن ہوئے کہ ڈاکخانہ کھل چکا ہے مگر منی آرڈر ابھی تک ڈیلیور (DELIVER) نہیں ہوئے۔وہ سارے کے سارے ڈاکخانہ میں ہی رُکے پڑے ہیں۔ڈاکخانہ والے کہتے ہیں کہ ابھی ہمارے پاس مُہریں نہیں پہنچیں۔اگر منی آرڈروں پر مُبر اور تاریخ نہ ہو اور روپیہ تقسیم کر دیا جائے تو ڈاکخانہ والے پھنس جاتے ہیں۔اس لیے کچھ رقمیں ایسی بھی ہیں جو جماعتوں نے تو بھجوا دی ہیں مگر ڈاکخانہ میں رکی پڑی ہیں۔میں جب ربوہ گیا تھا تو مجھے بتایا گیا تھا کہ تیرہ چودہ ہزار کے منی آرڈر آئے پڑے ہیں اور گو یہ اُس کمی کو پورا نہیں کرتے جو ہماری آمد میں واقع ہوئی ہے مگر اس سے پتا لگتا ہے کہ باہر کی جماعتوں نے اگر چندہ بھیجوانے میں سستی سے کام لیا ہے تو اس میں ایک حد تک ڈاکخانہ کا بھی دخل ہے۔اگر یہ روپیہ وصول ہو جائے تو ہو سکتا ہے کہ اس ماہ کی آمد ساٹھ ہزار تک پہنچ جائے یا ممکن ہے ستر ہزار تک پہنچ جائے۔لیکن پھر بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ جماعتیں اپنے اندر بیداری پیدا کریں اور اس غفلت کو دور کریں جو ان میں دکھائی دیتی ہے۔میں بتا چکا ہوں کہ اس کمی چندہ میں کچھ اس بات ہے کا بھی دخل تھا کہ انہوں نے منی آرڈر بھیجے تو ان کی رسیدات نہ ملیں۔چٹھیاں لکھیں تو ان کے جواب نہ گئے۔چنانچہ کئی لوگوں نے مجھے خط بھی لکھے کہ اتنے دن ہو گئے ہیں ہم چندہ بھجوا چکے ہیں مگر نہ منی آرڈر کا پتا لگتا ہے اور نہ دفتر والوں نے کوئی رسید بھجوائی ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جماعتیں سُست ہو گئیں اور انہوں نے چندے بھجوانے بند کر دیئے۔حالانکہ جماعتوں کو چاہیے تھا کہ ان حادثات سے بجائے ست ہونے کے وہ اور بھی پچست ہو جاتیں اور بجائے اس کے کہ وہ ڈر کر اپنا چندہ بھجوانا بند کر دیتیں کسی آدمی کے ذریعہ ہی اپنا چندہ بھجوا دیتیں تا کہ سلسلہ کا کام بند نہ ہو۔یہ ہمارے لیے ایک نہایت ہی نازک دور ہے اور اس میں ہم جتنا اپنی ذمہ داری کو سمجھیں کم ہے۔ہمیں یہ شبہ نہیں کہ ہم نے جیتنا ہے یا ہمارے مخالف نے۔یقیناً ہم نے ہی جیتنا ہے اور فتح اور کامیابی ہمارے لیے ہی مقدر ہے۔ہمارے اندرونی منافق اور بیرونی مخالف یہ سب کے سب ناکام رہیں گے۔اور وہ دن دور نہیں جب تم دیکھو گے کہ یہی معترض ہماری جوتیاں چائیں گے اور