خطبات محمود (جلد 30) — Page 334
* 1949 334 خطبات محمود اعلان انہیں بار بار کرنا چاہیے تھا اور جماعتوں کو بتانا چاہیے تھا کہ ہمیں یہ یہ مشکلات درپیش ہیں جن کی وجہ سے انہیں رسیدات نہیں بھجوائی گئیں۔ان کا روپیہ بہر حال محفوظ ہے لیکن اگر چندے آنے کم ہو گئے تو اس کا سلسلہ کے محکموں پر بہت برا اثر پڑے گا۔میں نے خود تو تحقیق نہیں کی لیکن محاسب کے عملہ نے کی مجھے بتایا ہے کہ معمولی بجٹ کو پورا کرنے کے لیے کم سے کم نوے ہزار روپیہ ماہوار آنا چاہیے۔اور اگر خاص بجٹ اس میں شامل کر لیا جائے تو ایک لاکھ پچیس ہزار روپیہ کی ماہوار آمد ہونی چاہیے۔اگر خاص بجٹ کو نظر انداز کر دیا جائے تب بھی روز مرہ کا کاروبار چلانے کے لیے ہمیں نوے ہزار روپیہ ماہوار کی ضرورت ہے۔لیکن وہ کہتے ہیں کہ پچھلے ایک دو ماہ سے پچاس ہزار روپیہ ماہوار کی آمدن ہو رہی ہے۔گویا ہماری آمد نصف تک پہنچ گئی ہے۔ظاہر ہے کہ اگر اس کمی کو پورا کرنے کے لیے چالیس ہزار روپیہ ماہوار قرض لیا جائے تو ایک سال میں پانچ لاکھ روپیہ قرض ہو جائے گا۔اس کے معنے یہ ہیں کہ سال بھر کے بعد ہمیں بہت سے محکمے اُڑادینے ہوں گے بلکہ سال کے درمیان میں ہی ہمیں ضرورت ہوگی کہ ہم بہت سے دفاتر اُڑادیں، مشن بند کر دیں اور اپنے کام کو ترقی سے روک دیں۔گویا بجائے اس کے کہ ہماری یہ کوشش ہوتی کہ ہم اپنے کام کو پھیلائیں اور وسعت دیں ہم اسے سمیٹنے لگ جائیں گے اور اپنی ترقی کو تنزل سے بدل لیں گے۔پس میں اس خطبہ کے ذریعہ تمام جماعت ہائے احمدیہ کو اُن کے فرائض کی طرف توجہ دلاتا ہی ہوں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ میرے نزدیک چندوں میں یہ کوتاہی اور غفلت مرکز بدلنے کی وجہ سے واقع ہوئی ہے۔جب ہم قادیان سے لاہور آئے تھے اُس وقت بھی ہماری آمد اتنی گر گئی تھی کہ چار پانچ ہزار روپیہ ماہوار تک رہ گئی تھی۔مگر یہ حالت ایک دو ماہ ہی رہی اس کے بعد پھر آمد بڑھنی شروع ہوگئی۔مگر اُس وقت بھی پانچ سات ماہ تک ایسا دھکا لگا تھا کہ جس کی وجہ سے انجمن کا قرضہ بہت بڑھ گیا تھا۔اگر دوسال کے بعد انجمن کو پھر ایک دھکا لگے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ کئی سال تک ہمیں قرضہ اُتارنے کی ہی فکر رہے گی۔ہم اپنے کام کو ترقی نہیں دے سکیں گے۔اصل بات یہ ہے کہ یہ تمام نقص تبدیلی مرکز سے پیدا ہوا ہے۔اکثر جماعتوں کو شکوہ ہے کہ دفاتر والے اُن کے خطوں کا جواب نہیں دیتے۔چندہ بھجواتے ہیں تو اُن کی رسیدیں انہیں نہیں ملتیں۔اس کی کچھ وجہ تو یہ ہے کہ عملہ کم ہونے کی وجہ سے دس دس پندرہ پندرہ دن انہیں اپنی فائلوں کو ترتیب دینے میں ہی لگ گئے۔پھر