خطبات محمود (جلد 30) — Page 324
1949ء 324 خطبات محمود ایک ھؤلاء ان لوگوں کی طرف جاتا ہے جو مادیات سے بالکل بالا ہو کر اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ سمجھتے ہیں ہم نے خدا سے بھی نہیں مانگنا۔ اور ایک درمیانی گروہ ہوتا ہے۔ وہ اپنے اپنے درجہ کے مطابق ظاہر میں کچھ مادی کوششیں بھی کر لیتے ہیں اور پھر ساتھ اس کے اللہ تعالیٰ پر تو کل بھی رکھتے ہیں۔ کبھی مانگتے ہیں اور کبھی نہیں مانگتے یا اپنی زندگی میں سے کچھ عرصہ کوشش اور جدو جہد کرتے ہیں اور کچھ عرصہ کوشش اور جدو جہد کو ترک کر دیتے ہیں ۔ ظاہری تدبیر حضرت خلیفہ اول نے بھی کی۔ آپ طب کرتے تھے اور روپیہ کماتے تھے۔ اور ظاہری تدبیر ہم نے بھی کی ۔ ہم بھی زمیندارہ کرتے ہیں اور بعض دفعہ تجارت بھی کر لیتے ہیں مگر اس نیت سے کرتے ہیں کہ اس کا نتیجہ خدا تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہے۔ اگر وہ کہے کہ میں نے تمہیں کچھ نہیں دینا تو ہمیں اُس سے کوئی شکوہ نہیں ہوگا۔ ہمیں اس کے فیصلہ پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ ہم پھر بھی یہی سمجھیں گے کہ وہ ہماری اُتنی ہی حمد کا مستحق ہے جتنی حمد کا اب مستحق ہے بلکہ وہ ہماری اتنی حمد کا مستحق ہے جتنی حمد ہم کر بھی نہیں سکتے ۔ پس اس مقام کے رہنے والوں کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ تو کل سے کام لیں اور ہمیشہ اپنی نگا ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلند رکھیں ۔ جود یا نتدار احمدی ہیں میں اُن سے کہوں گا کہ اگر وہ کسی وقت یہ دیکھیں کہ وہ تو کل کے مقام پر قائم نہیں رہے تو وہ خود بخود یہاں سے چلے جائیں ۔ اور اگر خود نہ جائیں تو جب اُن سے کہا جائے کہ چلے جاؤ تو کم سے کم اُس وقت ان کا فرض ہو گا کہ وہ یہاں سے فوراً چلے جائیں۔ یہ جگہ خدا تعالیٰ کے ذکر کے بلند کرنے کے لیے مخصوص ہونی چاہیے ، یہ جگہ خدا تعالیٰ کے نام کے پھیلانے کے لیے مخصوص ہونی چاہیے، یہ جگہ خدا تعالیٰ کے دین کی تعلیم اور اس کا مرکز بننے کے لیے مخصوص ہونی چاہیے ۔ ہم میں سے ہر شخص کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اپنی اولا داور اپنے اعزہ اورا قارب کو اس رستہ پر چلانے کی کوشش کرے۔ یہ ضروری نہیں کہ وہ اس کوشش میں کامیاب ہو سکے۔ نوح کی کوشش کے باوجود اُس کا بیٹا اُس کے خلاف رہا۔ لوڈ کی کوشش کے باوجود اُس کی بیوی اس کے خلاف رہی۔ اسی طرح اور کئی انبیاء اور اولیاء ایسے ہیں جن کی اولادیں اور بھائی اور رشتہ داران کے خلاف رہے۔ ہم میں سے کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ اپنے خاندان میں سے کتنوں کو دین کی طرف لا سکے گا مگر اس کی کوشش یہی ہونی چاہیے کہ اس کی ساری اولاد اور اس کی ساری نسل دین کے پیچھے چلے ۔ اور اگر اس کی کوشش کے باوجود اس کا کوئی عزیز اس رستہ سے دور چلا جاتا ہے تو سمجھ لے کہ وہ میری اولاد میں سے نہیں ۔ میری اولا دو ہی ہے