خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 303

1949ء 303 خطبات محمود میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ بعض طبعی مشکلات جماعت لاہور کے راستہ میں ایسی ہیں جن پر قابو پانا یہاں کے کارکنوں کے بس کی بات نہیں۔ دنیا میں روحانی مضبوطی کے دو ہی سبب ہوتے ہیں اور جب میں نے کہا ہے کہ دنیا میں اس مضبوطی کے دو سبب ہوتے ہیں تو میری مراد یہ ہے کہ اس کے دنیوی اسباب دو ہیں۔ روحانی اسباب مراد نہیں ۔ اور وہ دنیوی سبب روحانی مضبوطی کے یہ ہیں کہ ایک تو صادقوں کی معیت کبھی انسان کو نصیب ہو جائے ۔ جیسے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا۔ رماتا ہے۔ كُونُوا مَعَ الصَّدِقِينَ 1 تم صادقوں کی معیت اختیار کرو ۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ تمہارا ماحول اچھا ہو تو باوجود اس کے کہ کسی انسان کا ایمان زیادہ مضبوط نہ ہو پھر بھی وہ ماحول سے متاثر ہو کر ایمان میں ترقی کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ لاہور میں اچھا ماحول یہاں کی جماعت اور اس کی اولاد کو میسر نہیں۔ کیونکہ یہاں سترہ لاکھ کی آبادی ہے۔ اگر لاہور کی جماعت کے تمام مرد، عورتیں اور بچے ملا لیے جائیں تو اُن کی تعداد چار ہزار کے قریب بنتی ہے۔ گویا سو کے مقابلہ میں ایک نہیں بلکہ قریباً ساڑھے چار سو افراد کے مقابلہ میں ایک کی نسبت اُن کو حاصل ہے۔ اور ساڑھے چار سو میں ہمارے ایک آدمی کا ہونا اسے ماحول سے اتنا دور کر دیتا ہے کہ اچھے ماحول سے جس فائدہ کی اُمید کی جاسکتی ہے۔ وہ اُسے حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے جونئی پودنکلتی ہے وہ لازمی طور پر ان تأثرات کو زیادہ قبول کرتی ہے۔ جو غیر اس پر ڈالتے ہیں۔ اور جب کسی گھر میں اختلاف واقع ہو جائے ، پُرانی پو د مسجدوں کی طرف جائے اور نئی پو د سینما کی طرف جائے پرانی پود ذکر الہی کی طرف جائے اور نئی پو د لغو باتوں اور ہنسی کھیل اور مذاق کی طرف جائے تو ظاہر ہے کہ گھر میں یکجہتی باقی نہیں رہے گی اور اُس کی جدو جہد ایک جہت کی طرف رخ نہیں کرے گی۔ ماحول کے بعد دوسری چیز مخالفت ہوتی ہے۔ جب ماحول اچھا نہیں ہوتا تو مخالفت ماحول کا کام دے جاتی ہے۔ لوگ گالیاں دیتے ہیں، مارتے پیٹتے ہیں، ہنسی مذاق کرتے ہیں تو ان کی مار پیٹ کی وجہ سے بجائے اس کے کہ کمزوری پیدا ہولوگوں کا ایمان اور بھی بڑھتا اور ترقی کرتا ہے۔ یہ بات انسان کی فطرت میں داخل ہے کہ وہ اپنے اندر بہادری کی روح رکھتا ہے۔ بیشک کچھ لوگ بزدل بھی ہوتے ہیں لیکن اکثر لوگ اپنے اندر بہادری رکھتے ہیں۔ جب انہیں مار پیٹ شروع ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں اچھا جو تمہاری مرضی ہے کر لو ہم اپنے مذہب کو چھوڑنے کے لیے ہرگز تیار نہیں اور اس طرح وہ اپنے