خطبات محمود (جلد 30) — Page 300
* 1949 300 خطبات محمود ص ہیں جنہوں نے عکرمہ سے مل کر اُحد کے موقع پر اپنے خیال میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کر دیا تھا۔یہ وہ شخص ہے جس نے پہاڑ کے پیچھے سے ہو کر مسلمانوں پر حملہ کیا اور ان کی فتح کو شکست سے بدل دیا۔پھر یہی وہ شخص ہے جس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ جب تین جرنیل شہید ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ سَيْفٌ مِنْ سُيُونِ اللهِ۔لشکر کی کمان سنبھال لی اور اس طرح مسلمان محفوظ ہو گئے۔7 یہی خالد جب مرتے ہیں تو مرنے سے قبل روتے ہیں۔ان کے ایک دوست نے پوچھا خالد ! روتے کیوں ہو؟ خدا تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرنے کی آپ کو کتنی توفیق ملی ہے۔خالد نے کہا ہاں ہاں مجھے بے شک قربانی کے مواقع ملے ہیں لیکن مجھے حسرت ہے کہ میں چار پائی پر جان دے رہا ہوں۔پھر خالد نے اپنے اس دوست سے کہا میری ٹانگ سے ذرا کپڑا تو اُٹھاؤ۔کیا کوئی انچ بھر بھی ایسی جگہ تم دیکھتے ہو جس پر تلوار کا نشان نہ ہو؟ اُس نے کی کہا نہیں۔خالد نے کہا اچھا میری دوسری ٹانگ ننگی کرو۔اُس نے دوسری ٹانگ سنگی کی اور دیکھا کہ اس پر بھی ہر جگہ تلوار کے نشان لگے ہوئے ہیں۔خالد نے کہا اچھا میرے ہاتھ ننگے کرو۔میرے سینے پر سے کپڑا اُٹھاؤ، میری پیٹھ پر سے کپڑا اُٹھا کر دیکھو۔میرے پر نظر دوڑاؤ اور میری گردن کو ننگا کر کے دیکھو۔میرے تمام جسم پر ایک انچ بھر بھی ایسی جگہ نہیں جس پر تلوار کا نشان نہ ہو۔پھر خالد رو پڑے اور کہا خدا کی قسم ! میں اپنے آپ کو ہر خطرہ میں ڈالتا رہا اور میری خواہش تھی کہ میں شہید ہو کر دائی زندگی پاؤں لیکن وہ زندگی میرے نصیب میں نہیں تھی۔میں آج چار پائی پر تڑپ تڑپ کر مر رہا ہوں۔8 آب دیکھ لو کیا یہ خالد ولید کا بیٹا تھا؟ وہ ظاہری طور پر ولید کا بیٹا تھا لیکن باطنی طور پر وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں شامل ہو گیا تھا۔وہ یقیناً ولید کے گھر میں پیدا ہوالیکن فرشتوں نے اسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں لا ڈالا اور ثابت کر دیا کہ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ محمد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی نرینہ اولا دموجود ہے، آپ کے دشمن کی نرینہ اولاد نہیں۔پس یہ ایک روحانی نشان اور علامت ہے کہ زندہ انسان اپنے پیچھے ایسے وجود چھوڑتا ہے جن سے لوگ ہدایت پاتے ہیں۔جو شخص ایسا وجود اپنے پیچھے چھوڑتا ہے وہ کامیاب کہلا سکتا ہے اور اپنی زندگی پر فخر کر سکتا ہے۔لیکن جس کے پیچھے ایسے وجود نہیں پائے جاتے اسے خالی نمازیں اور روزے کچھ فائدہ نہیں دے سکتے۔