خطبات محمود (جلد 30) — Page 269
$ 1949 269 خطبات محمود الأغلى کالفظ رب العلمین کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ربّی کہ کر اپنے محبت کے تعلق کی طرف اشارہ کیا ہے کہ میری محبت کا تقاضا ہے کہ میں اپنے رب کے پاس جانا چاہتا ہوں جو اصل محبوب ہے۔اسی طرح احادیث میں آتا ہے جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ کے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ پیغام آپ کو دیا کہ آپ کو موت و زندگی دونوں میں اختیار دیا گیا ہے۔آپ چاہیں تو آپ کی زندگی بڑھا دی جائے اور اگر چاہیں تو میرے پاس آجائیں۔آپ ﷺ نے فرمایا میں موت کو اختیار کرتا ہوں۔میں نے زندہ رہ کر کیا کرنا ہے۔میں نے یہاں اس لیے رہنا قبول کر لیا تھا کہ میرے سپر د ایک کام کیا گیا تھا۔وہ کام جب میں نے ختم کر لیا تو اب میں یہاں کیوں رہوں۔آپ جب خطبہ کے لیے صحابہ میں تشریف لائے تو فرمایا خدا تعالیٰ کا ایک بندہ تھا۔خدا تعالیٰ کی نے اُسے اختیار دیا کہ چاہو تو تمہاری زندگی بڑھا دی جائے اور چاہو تو تم میرے پاس آ جاؤ۔اس نے خدا تعالیٰ کے پاس جانے کو پسند کیا۔صحابہ نے اسے ایک گزشتہ حکایت سمجھا لیکن حضرت ابوبکر رومی پڑے۔سارے صحابہ خوش تھے کہ انہیں ایک نئی روایت مل گئی اور ایک نیا نکتہ مل گیا۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں جب میں نے حضرت ابوبکر کو روتے دیکھا تو کہا کہ ابوبکر کو کیا ہو گیا ہے؟ خدا تعالیٰ نے ایک بندہ کو دی اختیار دیا ہے کہ چاہو تو تم زندہ رہو اور چاہو تو موت قبول کر لو اس میں رونے والی کیا بات ہے؟ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت ابوبکر کو روتے ہوئے دیکھا تو سمجھ لیا کہ انہوں نے بات سمجھ لی ہے۔آپ نے فرمایا میں حکم دیتا ہوں کہ مسجد کی سب کھڑکیاں بند کر دی جائیں۔صرف ابوبکر کی کھڑ کی کھلی رہے۔پھر فرمایا خدا تعالیٰ نے ابوبکر کو بہت رقیق القلب بنایا ہے۔14 دوسرے لوگوں کی موت اتفاقی ہوتی ہے۔آپ کی وفات اتفاقی نہیں تھی۔لوگوں کی موت اللہ نہیں ہوتی۔وہ بیمار ہوتے ہیں اور مر جاتے ہیں۔آپ کو اختیار دیا گیا تھا کہ چاہو تو موت قبول کر لو اور چاہو تو زندہ رہو۔آپ نے موت کو ترجیح دی اور کہا میں نے تو ان دنیاوی تکالیف کو اس لیے برداشت کیا ہے کہ میرے سپر د ایک کام کیا گیا تھا۔جب میں نے وہ کام ختم کر لیا ہے تو اب زندہ رہ کر میں نے کیا کرنا ہے۔غرض ان چاروں امور میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے جو نمونہ پیش فرمایا اس کی مثال دنیا میں اور کہیں دکھائی نہیں دیتی۔آپ جس طرح اپنے ہر کمال میں یکتا اور بینظیر بھی ہیں اسی طرح ان قربانیوں میں بھی آپ کا کوئی ثانی اور مثیل نہیں ہے۔لیکن اس کے