خطبات محمود (جلد 30) — Page 262
خطبات محمود 262 * 1949 جب طائف میں آپ تشریف لے گئے تو وہاں لوگوں نے آپ سے بدسلوکی کی۔آپ کے ساتھ حضرت زیڈ بھی تھے۔آپ جب واپس کو لے تو طائف والوں نے پتھر برسائے اور آپ کے پیچھے لگتے چھوڑ دیئے۔آپ ان لوگوں کے آگے آگے بھاگے آرہے تھے اور زخموں سے لہولہان تھے۔5 رستہ میں مکہ کے ایک شخص کا باغ تھا۔وہاں ذرا ستانے کے لیے آپ ٹھہر گئے۔باغ کا مالک آپ کا شدید دشمن تھا لیکن عربوں میں ایک عجیب بات پائی جاتی ہے کہ ان پر عزیزوں کی محبت ضرور غالب رہتی ہے۔یہ بات دوسری قوموں میں نہیں پائی جاتی۔مذہب کے جوش میں آکر وہ سختی بھی کرتے تھے ، ایذا ئیں بھی دیتے تھے لیکن بھائی کی خاطر قربانی کا احساس انہیں ضرور ہوتا تھا۔باغ کا مالک آپ کا شدید دشمن تھا اور ہمیشہ آپ کو دُکھ دیا کرتا تھا۔اس لیے آپ اس کے باغ میں داخل نہیں ہوئے بلکہ کنارے پر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے۔وہ باغ میں آیا ہوا تھا اور چشمہ پر بیٹھا باغ کی نگرانی کر رہا تھا، اُس کے غلام کام کر رہے تھے۔اُس کی نظر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت زیدڈ پر پڑ گئی۔مکہ میں یہ مشہور ہو چکا تھا کہ آپ طائف تشریف لے گئے ہیں۔اس نے آپ کے کپڑوں پر خون بھی دیکھا۔اُس شخص میں بغض اور کینہ کی وجہ سے یہ جرات نہ ہوئی کہ خود پاس آئے لیکن اس نے آپ کی تکلیف کا احساس ضرور کیا اور یہ سمجھا کہ اُس کے برادری کے بھائی پر لوگوں نے ظلم کیا ہے۔اُس نے کی اپنے ایک غلام کو بلایا اور کہا کہ ایک تھال لاؤ۔وہ ایک تھال لایا اور اس نے انگور کے کچھ خوشے اُس میں رکھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت زید کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا وہ دونوں آدمی جو درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے ہیں اُن کے پاس جاؤ اور انہیں یہ انگور کھلا ؤ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں کھانے پینے سے زیادہ تبلیغ کے لیے جلن رہتی تھی جو افسوس ہے کہ ہماری جماعت میں نہیں ہے پائی جاتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زخموں سے چور چور تھے۔لیکن اُدھر یہ غلام انگور لیے آپ کے پاس پہنچا اور ادھر آپ کے اندر جوش تبلیغ موجزن ہوا۔آپ نے اُس غلام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ اُس نے جواب دیا میں نینوا کا رہنے والا ہوں۔آپ نے فرمایا اچھا ! تم میرے بھائی یونس کے وطن کے ہو۔آپ کا یہ فقرہ سُن کر اُس غلام کے کان کھڑے ہو گئے کہ یہ عرب کا باشندہ ہونے کے باوجود نینوا کے رہنے والے یونس (علیہ السلام ) کو اپنا بھائی تصور کرتا ہے۔اس کی وجہ سے اُس کے اندر آپ کے لیے ہمدردی پیدا ہو گئی۔اُس نے پوچھا آپ کا یہ کیا حال ہے اور لوگوں کے