خطبات محمود (جلد 30) — Page 246
$1949 246 خطبات محمود خدا تعالیٰ نے آپ کو اُس سے اچھی بیویاں دے دی ہیں آپ اس کا خیال چھوڑ دیں۔آپ نے فرمایا عائشہ تمہیں معلوم نہیں کہ اُس میں کیا کیا خوبیاں تھیں۔اگر تمہیں معلوم ہوتا تو یہ بات کبھی نہ کہتیں۔5 اسی طرح اور بھی جس جس شخص نے آپ سے حسن سلوک کیا آپ نے اسے بھلایا نہیں بلکہ آپ نے ہمیشہ اس کی قدر کی۔اوروں کو جانے دو جس قوم نے آپ کو پالا تھا آپ نے اُس سے جو ای سلوک کیا وہ کیا کم قربانی تھی۔وہ قوم آخر وقت تک آپ سے لڑتی رہی اور بالآخر ایک لمبی اور خطر ناک جنگ کے بعد مغلوب ہوئی اور ساری کی ساری قید ہو کر آئی۔اس جنگ میں ایک ایسا وقت بھی آیا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان بھی خطرے میں پڑ گئی تھی لیکن اس قوم کے حُسنِ سلوک کا آپ پر اتنا اثر تھا کہ آپ نے دوماہ تک ان کے قیدیوں اور اموال کو تقسیم نہ کیا۔وہ بھی ضدی تھے۔آپ کے پاس جلدی نہ آئے۔آپ کا خیال تھا کہ وہ میرے پاس آئیں گے تو میں صحابہ سے ان کی سفارش کر دوں گا کہ چاہو تو ان کو چھوڑ دو ان کا مجھ پر احسان ہے، انہوں نے مجھے پالا تھا مگر جب آپ نے دیکھا کہ وہ دو ماہ تک نہیں آئے تو آپ نے قیدی اور مال صحابہ میں تقسیم کر دیئے۔اس کے بعد آپ کی دودھ کی شریک بہن آئی اور اس نے درخواست کی کہ آپ ان سے حسن سلوک کریں۔آپ نے فرمایا میں دیر تک انتظار کرتا رہا کہ تم آؤ تو میں تمہاری سفارش کر دوں مگر تم نہیں آئیں اور میں نے سب کچھ صحابہ میں تقسیم کر دیا ہے۔اب میں ایک بات کر سکتا ہوں۔میں سفارش کروں گا کہ یا تو صحابہ تمہارے قیدی چھوڑ دیں اور یا تمہارے مال واپس کر دیں۔ان دونوں چیزوں میں سے جو چاہو پسند کر لو۔انہوں نے مال کے مقابلہ میں جانوں کو ترجیح دی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو جمع کیا اور فرمایا میری دودھ شریک بہن آئی ہے اور درخواست کرتی ہے کہ اُس سے حسنِ سلوک کیا جائے۔میں نے ان دو چیزوں میں سے ایک چیز کا وعدہ کیا ہے چاہے مال واپس لے لیں اور چاہے قیدی آزاد کرالیں۔غنیمت کا مال تقسیم کر دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں کو اس سے بالکل محروم نہیں رکھنا چاہتا۔انہوں نے جانوں کو مال پر ترجیح دی ہے۔اب میں تمہارے سامنے یہ بات رکھتا ہوں۔صحابہ نے سب غلام چھوڑ دیئے اور کہا یارسول اللہ! ہم مال واپس کرنے کو تیار ہیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ایک ہی چیز کا وعدہ کیا ہے۔6 پھر یہ تو آپ کے محسن تھے۔آپ نے دوسروں کے محسنوں کو دیکھ کر ان کی بھی قدر کی۔ہے۔